اسلام آباد کے سازشی

محمد حنیف

ہمارے صحافی اور لکھاری بھائی زندگی، حکومت اور سیاست کے راز یا آسمانی صحیفوں میں ڈھونڈتے ہیں یا انسانوں کی لکھی ہوئی کتابوں میں۔

ہماری اپنی تعلیم مکتبوں کی بجائے پرانے سینیما گھروں میں ہوئی ہے، تو زندگی کے زیادہ تر راز کسی پرانی پنجابی فلم کے سین میں یا گانے کے کسی مصرعے میں تلاش کر لیتے ہیں۔

اسلام آباد کے مزاج کی سمجھ بھی مجھے ایک پرانا پنجابی گانا دیکھ کر ہی آئی۔

امام بری کے مزار پر فلمائی ہوئی ایک مشہور دھمال ہے، آپ نے بھی سنی ہو گی: ‘بری بری امام بری، میری کھوٹی قسمت کرو کھری۔’

دھمال شروع ہونے سے پہلے امام بری کا ایک شاٹ ہے اور اس کے بعد کیمرا گھوم کر پرانی پارلیمنٹ دکھاتا ہے۔ میڈم نور جہاں اونچے سروں میں گاتی ہیں: ‘تسی آپ سرکار صدیاں توں، جیڑے کول آئے سرکار بن گئے۔’ یعنی کہ آپ تو صدیوں سے سرکار تھے جو آپ کے پاس آئے سرکار بن گئے۔

اسلام آباد قدرتی حسن سے تو مالامال ہے ہی، دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ملک کے کونے کونے سے ہمارے سابق نابغہ روزگار بھی وہاں جمع ہے۔

جس شہر میں بڑا دربار لگے گا وہاں درباری بھی ہوں گے، درباریوں کے اپنے بڑے دسترخوان بھی ہوں گے، قصیدہ خوان بھی ضروری ہیں، مخبروں کے بغیر بھی کوئی دارالحکومت نہیں چل سکتا۔ ایک بڑا محل ہو گا تو کئی غلام گردشیں بھی ہوں گی، جہاں سازشیں بھی ہوتی ہوں گی۔

دنیا کے ان ملکوں کے سفیر بھی ہوتے ہیں جن کے نام ہم نے صرف دنیا کے نقشے پر دیکھے ہیں۔ ان سب کرداروں اور اداروں سے مل کر ہی کوئی دارالحکومت بنتا ہے۔

بچپن چونکہ ایک بہت چھوٹے شہر میں گزرا اور باقی ساری زندگی ایک بہت ہی بڑے شہر کی نذر ہو گئی، اس لیے اسلام آباد میں کبھی دل نہیں لگا۔

کبھی ایک کے بعد دوسری رات گزارنی پڑے تو دل گھبرانے لگتا ہے، رات کو پہاڑ دیو جیسے لگتے ہیں، بجلی کڑکے تو لگتا ہے کہ مجھے آخری وارننگ دے رہی ہے۔

شاید کراچی کے کنکریٹ جنگل میں ساری زندگی گزارنے کے بعد اسلام آباد کی تازہ ہوا اور ہرطرف چھایا سبزہ طبیعت کو موافق نہیں ہے۔

کبھی اسلام آباد کے ان صحافیوں اور دانشوروں پر رشک آتا ہے جن کو ہر سیاستدان کا شجرہ زبانی یاد ہوتا ہے، جو ملکی تاریخ میں ہونے والی ہر سازش کے عینی گواہ ہیں، جو حکومت کی آنیوں جانیوں کے بارے میں کسی پیشہ ور نجومی کی طرح پیشن گوئی کر سکتے ہیں لیکن کبھی اتنی ہمت نہیں ہوئی کے اپنے آپ کو ان کی صفوں میں شمار کر سکوں۔

دور بیٹھ کر تماشا دیکھنے والے تماش بین کی سی طبیعت پائی ہے لیکن اسلام آباد میں میرے رول ماڈل صحافی بھائیوں نے جو نیا تماشا شروع کیا ہے اس کی دور سے جھلکیاں دیکھ کر بھی طبیعت بدمزہ ہوتی ہے اور تھوڑا خوف بھی آتا ہے۔

صحافیتصویر کے کاپی رائٹAFP
Image captionصحافیوں میں کبھی ایکا نہیں تھا اور نہ اس کی ضرورت تھی

شاید ایک دوسرے پر غداری کے الزام لگانا اسلام آباد کی ثقافت کا حصہ ہو، لیکن میرا خیال ہے جو صحافی بھائی دوسرے صحافیوں پر غداری کے الزام لگا رہے ہیں وہ اس پیشے کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہیں اور دوسروں کے ساتھ اپنی زندگی بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

صحافی برادری میں کبھی اتحاد نہیں تھا نہ ہو سکتا ہے اور میری ذاتی رائے میں ضرورت بھی نہیں ہے۔ ایک دوسرے کے نظریات کی خیالات کی دھجیاں بکھیرنا ہمارا بنیادی حق ہے اور ہمیں اس حق کی حفاظت کرنی چاہیے، لیکن کیا اب غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنا بھی ہمارا بنیادی حق ہے؟

کیا ضروری ہے کہ جو خبر ہمیں پسند نہ آئے جو تجزیہ دل کو نہ بھائے اس کے لکھنے والے کو وطن فروش قرار دے کر بھیڑیوں کے غول کے آگے پھینک دیا جائے؟

ہوسکتا ہے آپ کسی ڈمی اخبار میں بغیر تنخواہ کے کام کرنے والے سب ایڈیٹر ہوں یا ہر روز نیا سوٹ پہن کر کسی مقبول ٹی وی چینل پر آتے ہوں۔

دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا کسی برطرف شدہ وزیراعظم کا انٹرویو کرنا واقعی سازش ہے یا صحافی کا بنیادی کام؟

کیا اسلام آباد میں رہتے ہوئے کسی ریستوران میں بیٹھ کر کسی غیر ملکی سفارت کار سے گپ شاپ لگانا ملک سے غداری ہے یا صحافی کی اولین ذمہ داری؟

ہو سکتا ہے میں اسلام آباد کے آدابِ صحافت سے ناواقف ہوں لیکن میں نے دیکھا ہے کہ اسلام آباد میں سفارت کاروں سے ملنا اتنی ہی عام سی بات ہے جتنا کراچی میں سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر حلیم کی پلیٹ کھانا۔

پاکستان صحافیتصویر کے کاپی رائٹAFP

صحافیوں میں کبھی ایکا نہیں تھا اور نہ اس کی ضرورت تھی۔ سینیئر صحافیوں کے بھی سینیئر صحافی جب فخر سے یہ بتاتے ہیں کہ ہم نے ضیا دور میں کوڑے کھائے تھے لیکن وہ ان صحافیوں کا ذکر نہیں کرتے جنھوں نے کوڑے پڑنے پر تالیاں بجائی تھیں۔ نہ ان میڈیا سیٹھوں کا ذکر ہوتا ہے جنھوں نے اپنی تجوریاں بھری تھیں۔

تو اسلام آباد کے سینیئر اور جونیئر اور درمیانے صحافی بھائیوں اور بہنوں سے گزارش ہے کہ ایک دوسرے پردشنام طرازی ضرور کریں۔ اس سے رونق لگی رہتی ہے لیکن کبھی یہ بھی یاد کریں کہ آپ کی برادری میں کوئی سلیم شہزاد بھی تھا جو سوٹ پہنے ہوئے ایک نہر میں پایا گیا تھا۔ ایک حامد میر بھی ہیں جو اسی بات کی زندہ مثال ہیں کہ بچانے والا مارنے والوں سے بڑا ہے۔

آپ سرکار کے پاس آتے ہیں تو دربار کے مزے لوٹیں لیکن اپنے آپ کو سرکار نہ کہیں