پاکستان کے ’لاپتہ‘ شیعہ کہاں ہیں؟

کراچی کی ایک مقامی مسجد پر نگرانی کے لیے نصب کیمروں کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درجن کے قریب مسلح افراد 30 سالہ نعیم حیدر کو ہتھکڑیاں لگا کر لے جا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض نے چہروں پر نقاب پہن رکھے تھے جبکہ دیگر پولیس وردی میں تھے۔

یہ 16 نومبر 2016 کی رات تھی۔ اس کے بعد سے آج تک نعیم حیدر کو نہیں دیکھا گیا۔ بطور ثبوت سی سی ٹی وی ویڈیو موجود ہونے کے باوجود پولیس اور خفیہ اداروں نے عدالت میں انکار کر دیا کہ وہ ان کی حراست میں ہیں۔

شیعہ افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق نعیم حیدر ان 140 پاکستانی شیعہ افراد میں شامل ہیں جو گذشتہ دو سال کے دوران ’لاپتہ‘ ہوئے۔ ان افراد کے خاندان والوں کے خیال میں یہ تمام افراد خفیہ اداروں کی حراست میں ہیں۔

ان لاپتہ افراد میں جن میں نعیم حیدر بھی شامل ہیں، 25 سے زیادہ کا تعلق پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے ہے۔

نعیم حیدر کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ حراست میں لیے جانے سے دو روز قبل ہی اپنی حاملہ بیوی کے ہمراہ عراق میں زیارات کے بعد کراچی پہنچے تھے۔

ان کی اہلیہ عظمیٰ حیدر کے ہاں بیٹے کا جنم ہوا جس نے آج تک اپنے والد کو نہیں دیکھا ہے۔ عظمیٰ نے بی بی سی کو بتایا: ’میرے بچے ہر وقت مجھ سے پوچھتے ہیں، ہمارے والد کب گھر آئیں گے؟‘

وہ کہتی ہیں ’میں انھیں کیا جواب دوں۔ مجھے کوئی نہیں بتاتا کہ وہ کہاں ہیں۔ کم از کم یہی بتا دیں کہ ان پر الزام کیا ہے۔‘

عظمیٰ حیدر
عظمیٰ حیدر کے بیٹے نے آج تک اپنے والد کو نہیں دیکھا ہے

لاپتہ ہونے والے دیگر شیعہ افراد کے اہلخانہ کے پاس بھی بتانے کو کچھ ایسی ہی کہانی ہے کہ ان کے پیاروں کو رات کی تاریکی میں سکیورٹی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔

کراچی کے ہی ایک متوسط علاقے میں ایک مکان میں جمع شیعہ خواتین نے مجھے بتایا کہ انھیں حکام کی جانب سے ان کے گمشدہ رشتہ داروں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جاتا کہ آیا انھیں کہاں رکھا گیا ہے یا ان کے خلاف الزامات کیا ہیں۔

شیعہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انھیں یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ ان افراد پر شام میں سرگرم ایک مسلح ملیشیا زینبیون بریگیڈ سے رابطوں کا شک ہے۔

زینبیون کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ملیشیا ایک ہزار کے قریب شیعہ پاکستانی جنگجوؤں پر مشتمل ہے جو شام میں صدر بشارِالاسد کی جانب سے برسرِپیکار ہے تاہم اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف شام میں مقاماتِ مقدسہ کا تحفظ ہے جنھیں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے خطرہ لاحق رہا ہے۔

تاحال پاکستانی حکام کی جانب سے اس تنظیم کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا ہے اور نہ ہی لاپتہ ہونے والی کسی بھی فرد کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی قانونی کارروائی کی گئی ہے۔

راشد رضوی کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں سے بیشتر مقاماتِ مقدسہ کی زیارات سے واپسی کے بعد غائب ہوئے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ریاستی اداروں کے کچھ نمائندے میرے پاس آئے تھے۔ انھوں نے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ ہم احتجاج ختم کریں مگر میں نے ان سے پوچھا آپ نے ان لوگوں کو کیوں اٹھایا تو ان کا جواب تھا ہمارے خیال میں یہ شام میں داعش اور القاعدہ سے لڑنے گئے ہیں۔‘

لاپتہ شیعہ
عارف حسین کو ڈیڑھ برس قبل مبینہ طور پر سکیورٹی اہلکار ان کی رہائش گاہ سے اپنے ساتھ لے گئے تھے اور وہ اس کے بعد سے لاپتہ ہیں

راشد رضوی کا کہنا تھا کہ ’اس پر میں نے ان سے سوال کیا اگر ایسا ہے تو انھیں عدالتوں میں پیش کیوں نہیں کرتے۔‘

اس بارے میں جب پاکستانی ریاستی اداروں سے سوال کیا گیا تو انھوں نے بی بی سی کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ تاہم پاکستانی حکام اکثر یہ کہتے ہیں کہ ملک میں سکیورٹی اداروں کو غیرمنصفانہ طور پر لوگوں کو لاپتہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور یہ کہ ملک میں لاپتہ افراد کی تعداد بھی بڑھا چڑھا کر بیان کی جاتی ہے۔

لاپتہ افراد کا معاملہ پاکستان میں حساس ترین معاملات میں سے ایک ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں اس وقت 1500 ایسے افراد ہیں جنھیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ ان میں مشتبہ سنّی جہادی، قوم پرست کارکن اور فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے ناقدین بھی شامل ہیں۔

لاپتہ ہونے والے شیعہ افراد میں سے کچھ واپس بھی آئے ہیں۔

ان میں سے ایک شخص نے جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے، بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ’ایک چھوٹے اور تاریک کمرے‘ میں رکھا گیا تھا جہاں انھیں ’شدید تشدد‘ کا نشانہ بنایا گیا اور ’بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان سے بار بار زینبیون کے بارے میں ہی سوال کیے جاتے رہے اور پوچھا جاتا رہا کہ وہ اس تنظیم میں کس کو جانتے ہیں اور انھیں کہاں سے مالی مدد ملتی ہے۔

راشد رضوی
راشد رضوی کراچی میں لاپتہ شیعہ افراد کی کمیٹی کے سربراہ ہیں

واپس آنے والوں میں ثمر عباس بھی ہیں جو 14 ماہ کے طویل عرصے تک لاپتہ رہنے کے بعد رواں برس مارچ میں گھر لوٹے ہیں جبکہ ان کے برادرِ نسبتی آج بھی لاپتہ ہیں۔

ثمر کا کہنا ہے کہ انھیں حراست میں رکھنے والوں نے انھیں یہ کہہ کر رہا کر دیا کہ وہ بےقصور ہیں اور اپنی زندگی جیسے چاہیں گزارنے کے لیے آزاد ہیں۔ تاہم ان کے مطابق دورانِ تفتیش ان سے بھی زینبیون کے بارے میں سوال کیے جاتے رہے۔

’انھوں نے مجھ سے کہا تم لوگوں کو لڑائی کے لیے شام بھیجنے میں ملوث ہو۔ ہمیں ان کے نام بتاؤ۔ میں نے انھیں کہا، میں تو خود آج تک شام نہیں گیا۔‘

زینبیون بریگیڈ شام میں سرگرم ان شیعہ ملیشیاز کا حصہ ہے جن کا تعلق ایران سے بتایا جاتا ہے۔ ان میں زینبیون کے علاوہ لبنانی حزب اللہ اور افغانی جنگجوؤں پر مشتمل فاطمیون بریگیڈ بھی شامل ہے۔

زینبیون ان میں سب سے کم منظرِ عام پر آنے والا گروپ ہے تاہم اس کے ارکان کی جانب سے تنظیم کے جنگ میں مارے جانے والے کچھ ارکان کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی گئی ہیں۔ ان میں سے کئی کا تعلق بظاہر پاکستان کے قبائلی علاقے کرّم ایجنسی سے ہے جہاں شیعہ آبادی پائی جاتی ہے۔

محققین کا یہ بھی اندازہ ہے کہ شام میں جاری لڑائی میں اب تک 100 سے زیادہ پاکستانی جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

شمیم آرا
Image captionشمیم آرا جب اپنے لاپتہ بیٹے کا ذکر کرتی ہیں تو ان کے آنسو نہیں تھمتے

شیعہ کمیونٹی کے رہنماؤں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں پاکستانی خفیہ اداروں کو خدشہ ہے کہ زینبیون کے پاکستان واپس آنے والے ارکان ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کی نئی لہر کو جنم دے سکتے ہیں تاہم وہ خود اس سے متفق نہیں۔

لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ان کے رشتہ دار کسی مسلح گروہ سے منسلک نہیں اور وہ بس ان کی واپسی چاہتے ہیں۔

65 سالہ شمیم آرا جب اس دن کا ذکر کرتی ہیں جب ان کے سب سے چھوٹے بیٹے عارف حسین کو مبینہ طور پر سکیورٹی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے تھے تو ان کے آنسو نہیں تھمتے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے تو کہا تھا ہم اس سے کچھ سوال پوچھ کر اسے چھوڑ دیں گے۔ ڈیڑھ برس بیت گیا ہے اور اس کی کوئی خبر نہیں۔ اگر انھوں نے اسے مار دیا ہے یا وہ زندہ ہے مجھے کچھ تو بتا دو۔ میں سارے شہر میں اسے ڈھونڈتی پھری ہوں۔‘

شمیم آرا کا کہنا تھا کہ ’میں رو رو کر تھک گئی ہوں۔ میں دعائیں مانگ مانگ کر تھگ گئی ہوں۔ خدا کے واسطے مجھے بتا دو میرا بیٹا کہاں ہے۔‘