مسلم نوجوان کو مشتعل ہجوم سے بچانے والے پولیس اہلکار کو دھمکیاں، ’رخصت‘ پر بھیج دیا گیا

انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک مسلمان نوجوان کو مشتعل ہجوم سے بچانے والے پولیس اہلکار جگندیپ سنگھ کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد اس نوجوان پولیس اہلکار کی تحسین کی جارہی تھی کہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملنے لگیں۔

شمالی ریاست اتراکھنڈ کے پولیس ایہلکار جگندیپ سنگھ کی یہ ویڈیو گذشتہ ہفتے انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تھی۔

حملے کا شکار ہونے والا شخص اپنی ہندو گرل فرینڈ کے ساتھ مندر آیا تھا۔

ہندوؤں کے مجمع نے اس گھیر لیا اور اس پر ’لو جہاد‘ کا الزام لگا کر اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

یہ اصطلاح بنیاد پرست ہندوؤں نے تخلیق کی ہے جس میں ان کے مطابق مسلمان مرد عورتوں کو رجھا کر مسلمان کر رہے ہیں۔

ویڈیو کے انٹرنیٹ پر شیئر ہونے پر بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ جگندیپ تمام انڈینز کے لیے ’مثال‘ ہیں اور یہ خبر انڈیا کے تمام بڑے اخباروں میں چھپی

جگندیپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں صرف اپنا فرض نبھا رہا تھا۔ اگر میں وردی میں نہ بھی ہوتا تو بھی میں ایسا ہی کرتا اور ہر انڈین کو یہی کرنا چاہیے۔‘

تاہم زیادہ دیر نہیں لگی جب لوگوں نے ان پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی کہ وہ غیر مہذب عمل کا دفاع کر رہے تھے۔

ان کے ساتھ کام کرنے والے پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں اس لیے انھیں رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔

بعض سرکاری اہلکاروں نے سرعام بِھیڑ کے اقدام کو جائز قرار دیا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے راکیش نینوال نے بی بی سی پنجابی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ غلط ہے جب یہ مسلمان ہندو لڑکیوں کو لے کر ہماری عبادت کی جگہ پر آتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ مندر ہے اور یہ پاک ہے۔‘

بے جے پی کے ایک دوسرے ایم ایل اے راج کمار ٹھکرال نے خبر رساں ایجنسی ای این آئی کو بتایا کہ یہ اس شخص کی جانب سے ہندو برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی ایک کوشش تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم مسجد میں نہیں جاتے کیونکہ ہمیں وہاں جانے کا حق نہیں۔ پھر یہ لوگ ہندو تہذیب کو تباہ کرنے کے لیے مندر میں کیوں آتے ہیں۔‘

تاہم رام نگر ضلع کے لوگوں کا، جہاں یہ واقعہ پیش آیا، خیال ہے کہ یہ سب بہت پریشان کن ہے۔

ایک مقامی شخص کاجیت سہانی کا کہنا تھا ’جو ایک لڑکا اور لڑکی اپنی مرضی سے کہیں جاتے ہیں تو یہ دائیں بازو کے لوگ اسے ’لوجہاد‘ کیسے کہہ سکتے ہیں اور حملہ کیسے کر سکتے ہیں۔‘