فاٹا انضمام فوج کے زبردستی کروایا

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ فاٹا کا انضمام اسمبلی نے خود نہیں کیا بلکہ اس سے کرایا گیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’فاٹا کے معاملہ پر جو رویہ اختیار کیا گیا اس نے پاکستان کے مستقبل پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں، حکومت اور وزراء اعتراف کر چکے کہ فاٹا انضمام ہماری رائے اور حقائق کے خلاف ہے اور ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق وہی ہیں جو فضل الرحمٰن کہتا آرہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے فاٹا انضمام نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی جبکہ رواج ایکٹ پر کارروائی روکنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی تھی، ہم نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کی توسیع پر بھی اتفاق رائے نہیں کیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے بند کمروں اور کھلے عام بھی اپنا موقف سب کے سامنے کہا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ اور وزیر اعظم سے کہا کہ افغانستان کی جانب سے مشکلات آسکتی ہیں اور فاٹا کے انضمام پر افغانستان کا 24 گھنٹے میں ردعمل آیا۔‘

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’ہم ابھی مشرقی تنازعات سے نکلے نہیں اور مغربی تنازعات کو دعوت دے دی ہے، اگر آنے والے حالات میں کوئی ایندھن بنے گا تو وہ صرف قبائل کے عوام ہوں گے، کیا قبائل کے عوام صرف اس مقصد کے لیے بنے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ فاٹا کے عوام سے رائے لی جائے، یہاں 120 دن دھرنا دیا سب نے برداشت کیا، لیکن جب جے یو آئی (ف) کے کارکنوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تو ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں، جبکہ اب میں اپنا معاملہ قبائل جرگے کے سامنے رکھوں گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’صدر پاکستان ممنون حسین کو بھی ان تمام حقائق کا علم ہونا چاہیے، اگر آخری دستخط ان کی ذمہ داری ہے تو وہ اسے روک دیں، کیونکہ عوامی ردعمل آنا شروع ہوگیا ہے جو بڑھتا چلا جائے گا، جبکہ عوامی ردعمل کا وزیر اعظم کو بھی اندازہ ہے۔‘

سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ ’فاٹا کا انضمام اسمبلی نے کیا نہیں اس سے کروایا گیا ہے، یہ کام پارلیمنٹ کی گردن مروڑنے والی قوت نے کروایا ہے، ہم کشمیریوں کے لیے حق مانگتے ہیں لیکن اپنے لوگوں کو حق نہیں دے سکتے۔‘

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’فاٹا اگر پسماندہ ہے تو پنجاب کا جنوبی علاقہ پسماندگی نہیں؟ پنجاب میں پسماندگی کم کرنے کے لیے الگ صوبہ مانگتے ہیں اور فاٹا کی پسماندگی دور کرنے لے لیے اسے ضم کیا جارہا ہے، تاہم ہم فاٹا کے حقوق کی جنگ لڑیں گے۔‘

نگراں وزیر اعظم کی نامزدگی سے متعلق مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک نیک نام آدمی ہیں، ہم ان کی نامزدگی کی حمایت کرتے ہیں۔‘