افغانستان نے فاٹا کا پاکستان سے انضمام ٹھکرا دیا

افغانستان کی حکومت نے فاٹا کا پاکستان سے انضمام ٹھکرا دیا ہے اور اس مسلے پر ریفرینڈوم کروانے کا مطالبہ کیا ہے

یار رہے کہ انیسویں صدی میں برطانوی راج اور افغانستان کے مابین بفر زون کی حیثیت اختیار کرنے والے قبائلی علاقے کی اب پاکستانی صوبه کے پی کے میں شمولیت پر فی الحال کابل حکومت خاموش ہے تاہم عوام اور مبصرین کی بڑی تعداد اس کی مخالفت کر رہی ہے

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے یا فاٹا کی تاحال قانونی حیثیت کے ریشے آج سے ٹیهک 139 برس قبل 26 مئی 1879 کے “Treaty of Gandamak” یا ’گندمک معاہدے سے جاملتے ہیں۔ جسے افغانستان میں ’د گندمک تڑون‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

پہلی افغان – انگریز جنگ (1839 – 1842) میں شکست کے بعد دره خیبر اور کوئٹه کے راستے افغانستان پر دوباره چڑهائی کرنے کے بعد برطانوی راج نے کابل کے حکمران شاه محمد یعقوب خان کے ساتھ یه معاہده کیا، جس کے تحت افغانستان پر تو ان کی حکمرانی تسلیم کر لی گئی تاہم کئی سرحدی علاقے افغانستان کے کنٹرول سے چلے گئے۔

افغان تجزیه نگار محمد عاشق الله نے ڈی ڈبلیو کو بتایا که اسی ’د گندمک تڑون‘ کے تسلسل میں برطانوی راج نے سابقه شمال مغربی سرحدی صوبے NWFP بشمول میانوالی اور اٹک اور قبائلی علاقے کا کنٹرول افغانستان سے ضبط کر لیا تها: ’’اس سند کے مطابق ہی 1893 میں ڈیورنڈ لائن کهینچی گئی اور متحد ہندوستان سے برطانیه کے انخلا کے بعد اور پاکستان کے قیام کے بعد افغانستان میں کمزور حکومت کے باعث یه ایک بارڈر کے طور پر موجود رہی اور اس کے قریبی علاقے فاٹا دیگر پاکستان کے برعکس ایک خاص حیثیت میں رہے جبکه وہاں سے قبائلی عمائدین، طلبا اور تاجر آزادانه طور پر افغانستان آتے جاتے رہے۔‘‘

عاشق اللہ کے بقول، ’’گندمک معاهدے کی ایک اہم شق یه ہے که فریقین (برطانیه اور افغانستان) اور اب (پاکستان اور افغانستان) یک طرفه طور پر ان علاقوں سے متعلق کوئی قدم نہیں اٹهائیں گے، اب پاکستان نے یه اقدام اٹها کر افغانستان کے لیے بهی راه ہموار کر دی ہے که وه بهی اس معاہدے کو منسوخ سمجھے اور اس خطے پر اپنے حق کا معامله اٹهائے۔‘‘

دوسری طرف افغان حکومت کے پاکستان کے اس فیصلے کو رد کر دیا ہے. اور زور دیا ہے کہ اس معاملے پر عوام کی رائے لی جاۓ

دوسری جانب افغان قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر آج پاکستان کا دورہ کریں گے جس کے دوران وہ سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کریں گے

افغان صدارتی محل کے مطابق افغان وفد کو دورہ پاکستان کی دعوت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دی جب کہ وفد ملاقات میں افغان پاکستان اور علاقائی صورتحال پر بات کرے گا

پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعرات 24 مئی کو 31 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا بل منظور کیا تها

افغانستان سے اعلیٰ سطح کا وفد نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کی زیر قیادت پاکستان پہنچا ہے