نقیب اللہ قتل کیس: طاقتور ملزم، بغیر ہتھکڑی، راؤ انوار کی جیل کو بی کلاس، فیصلہ محفوظ

کراچی میں انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) راؤ انوار کو سب جیل منتقل کرنے کے خلاف اور ملزم کی جانب سے جیل میں بی کلاس کی فراہمی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں ماورائے عدالت قتل کیے جانے والے نقیب اللہ کے کیس کی سماعت کے دوران مرکزی ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو بغیر ہتھکڑی کے دیگر ملزمان کے ساتھ عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس موقع پر مدعی مقدمہ خان محمد اور ان کے وکلاء بھی عدالت میں پیش ہوئے، کیس کے تفتیشی افسر کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔

اس موقع پر عدالت نے مفرور ملزم شعیب شوٹر اور دیگر کے ایک مرتبہ پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔

علاوہ ازیں عدالت میں محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے راؤ انوار کو سب جیل منتقل کرنے کے معاملے پر دلائل دیئے گئے۔

عدالت نے محکمہ داخلہ سندھ سے راؤ انوار کو سب جیل منتقل کرنے سے متعلق درخواست کی تصدیق کا حکم دیا۔

اس موقع پر وکیل مدعی مقدمہ نے عدالت کو بتایا کہ راؤ انوار کو جب عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تو ملزم نے کسی قسم کے سیکیورٹی خدشات کا اظہار نہیں کیا تھا۔

بعد ازاں عدالت نے ملزم راؤ انوار کو سب جیل منتقل کرنے کے خلاف اور راؤ انوار کی جانب سے جیل میں بی کلاس کی فراہمی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

خیال رہے کہ مدعی مقدمہ نے راؤ انوار کو ملتان لائنز سب جیل میں رکھنے پر اعتراضات دائر کئے تھے۔

عدالت نے کیس کی سماعت 6 جون تک ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت پر دونوں آڈرز جاری کئے جائیں گے۔

ادھر 3 ملزمان یاسین ڈکو، سپرد حسین اور خضر حیات کی جانب سے درخواست ضمانت پر عدالت نے 6 جون کے لیے سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کردیئے۔

راؤ انوار کے خلاف نیب میں درخواست

دوسری جانب نقیب اللہ محسود کے والد نے سابق ایس ایس پی راؤ انوار کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) میں درخواست دائر کردی۔

انہوں نے یہ درخواست نیب میں خود جمع کرائی جبکہ اس کی ایک کاپی چیئرمین نیب کو بھی بھجوا دی۔

نقیب اللہ محسود کا قتل

خیال رہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو گزشتہ ہفتے ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاص خیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے اس وقت الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جنگھوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔

اس واقعے کے بعد نقیب اللہ کے ایک قریبی عزیز نے پولیس افسر کے اس متنازع بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقتول حقیقت میں ایک دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا شوق تھا۔

نقیب اللہ کے قریبی عزیز نے بتایا تھا کہ رواں ماہ کے آغاز میں نقیب اللہ کو سہراب گوٹھ پر واقع کپڑوں کی دکان سے سادہ لباس افراد مبینہ طور پر اٹھا کر لے گئے تھے جبکہ 13 جنوری کو پتہ چلا تھا کہ اسے مقابلے میں قتل کردیا گیا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ مقتول اس سے قبل بلوچستان میں حب چوکی پر ایک پیٹرول پمپ پر کام کرتا تھا اور اس کے کسی عسکریت پسند گروپ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

واضح رہے کہ 19 جنوری کو چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے کراچی میں مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے قتل کیے جانے والے نقیب اللہ محسود پر از خود نوٹس لیا تھا۔

جس کے بعد مذکورہ کیس کی متعدد سماعتیں ہوئیں جن میں سپریم کورٹ نے راؤ انوار کو پولیس حکام کے پیش ہونے کا موقع بھی دیا تاہم 21 مارچ 2018 کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے اور سماعت کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا