فوج نے کئی کلومیٹر علاقہ افغانستان کو دے دیا، کیس شروع

اسلام آباد: لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے افغان حکام کو انگور اڈا کی چیک پوسٹ دینے کے حوالے سے دائر درخواست پر دوبارہ سماعت کا فیصلہ کرلیا۔

خیال رہے کہ 2016 میں پاک فوج کے ریٹائرڈ لیفٹننٹ کرنل انعام الرحمٰن کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے سامنے انگور اڈا چیک پوسٹ افغان حکام کے حوالے کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے سینئر افسران کے خلاف کارروائی کی استدعا کی تھی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ انگور اڈا کی چیک پوسٹ افغان حکام کے حوالے کرنا پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کی شق 24 کی خلاف ورزی ہے جس کے مطابق کوئی بھی گیریژن، قلعہ، فضائی حدود، جگہ، چیک پوسٹ یا گارڈ کسی اور کو دے دنیا جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

درخواست پر سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف نے وزارتِ دفاع کو عدالت کی معاونت کے لیے ایک باخبر افسر تعینات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 4 جون تک ملتوی کردی۔

درخواست کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ انگور اڈا کئی کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جہاں ہزاروں پاکستانی رہتے ہیں، تاہم افغان حکام کو یہ جگہ دینے سے نہ صرف وہاں موجود پاکستانی اپنی شہریت سے محروم ہوگئے بلکہ بے گھر بھی ہوگئے ہیں۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ فوجی حکام کی جانب سے مذکورہ پوسٹ کو افغان حکام کے حوالے کرنے سے پوری قوم بالخصوص سابق فوجی افسران میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ کسی ملک کے ساتھ دو طرفہ امور دیکھنے کی ذمہ داری پارلیمنٹ کی ہے، جبکہ آرمی چیف کی ذمہ داری صرف پاکستان کے دفاع کی ہے۔

پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے انگور اڈا پوسٹ افغان حکام کو دینے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی عدالت وزیراعظم کو ہدایت دے کہ وہ افغان حکومت کو پاکستانی پوسٹ دینے والے حکام کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں