غدار جنرل راحیل شریف، پاشا، مشرف کو گرفتار کر کے پاکستان واپس لایا جاۓ

پاکستانی فوج کے یہ غدار سربراہ، آرمی چیف راحیل شریف امریکہ کی بنائی سعودی عرب فوج کا سربراہ ہے، جنرل جہانگیر کرامت امریکہ میں مستقل رہ رہا ہے

آئی ایس آئی کا سربراہ جنرل پاشا متحدہ عرب امارات میں امریکی کمپنی میں نوکری کرتا ہے. جنرل مشرف بھی ملک سے مفرور ہے

ایک جنرل اسد درانی کتاب میں ملک کے سب راز فاش کر رہا ہے

عوام اس سے پوچھتی ہے کہ یہ کس کی اجازت سے باہر نوکریاں کر رہے ہیں، یہ ملک کے راز دوسرے ملکوں کو بیچ کر ناقابل معافی نقصان پہنچا رہے ہیں. پاکستان میں انتہائی حساس معلومات جاننے والے یہ افراد غیر ملکوں میں کام کرتے ہیں

حکومت کو چاہیے کہ ان تمام جنرلوں کو گرفتار کر کے وطن واپس لایا جاۓ اور انھیں پاکستان سے غداری کی سزا دی جاۓ

جنرل شیعب اور دوسروں نے بھی جنرل اسد درانی کو قصور وار ٹہرا کر عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی ہے

یہ بھی پڑھیں

گلگت بلتستان آڈر: دھرنے کی کوشش، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

میرا دل چاہتا ہے کہ پتھر کا ٹیبل لیمپ اس کے سر پر ماروں: ہارون رشید غصے میں

جنرل اسد درانی نے ایک کتاب میں راز فاش کیے ہیں

مگر جنرل مشرف، جنرل راحیل شریف، جنرل جہانگیر کرامت، جنرل پاشا اور دوسرے بہت سے جنرل پاکستان سے انتہائی اہم معلومات لینے کے بعد اب امریکہ اور دوسرے ملکوں میں نوکریاں کر رہے ہیں

ان کے بارے میں سب بات کو گول مول کر رہے ہیں، فوج بھی اپنے ان افسران کو بچانے کے لیے منہ تک نہیں کھولتی

یہ بھی پڑھیں

آرمی چیف اسلم بیگ کا صحافی پر حملہ, ہاتھا پائی

جنرل شعیب نے ایک ٹی وی پروگرام میں جنرل اسد درانی کو ایک لمبا چوڑا لیکچر دیا جو کہ اپنے پڑھنے والوں کے لیے اس طرح ہے

لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ اسد درانی نے آرمی سے ، جی ایچ کیو سے کلیئر نہیں کروائی جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہم نے ایک حلف لیا ہوا ہوتا ہے سروس میں آپ ہوں یا ناں ہوں کیونکہ سروس میں ہوتے ہوئے بہت ساری چیزیں آپ کے پاس راز ہوتی ہیں اسد درانی کہتے ہیں کہ نہیں جی اسامہ بن لادن کا کسی ناں کسی کو پتہ تھا تو یہ الزام بن جاتا ہےمیجر (ر) اعجاز اعوان نے کہا کہ انہوں نے کچھ ایسے انکشافات کئے ہیں جو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے زمرے میں آتے ہیں یا سروس میں ان کو ان رازوں کا علم تھا جب ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو یقیناً انہوں نے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اگر ایسا ہے تو ان کو قانون کے مطابق سزا ضرور ملے گی ،ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا کہ اسد درانی نے یہ کتاب لکھی اورا س میں بہت سی متنازع باتیں کیں، انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کا علم تھا، یہ تاثر دیا کہ پاکستان کو علم تھا اور پاکستان نے ہی اسامہ بن لادن کا آپریشن کروایا، انہوں نے تو ہندوستان اور پاکستان کی کنفیڈریشن کا بھی آئیڈیا خود ہی پیش کردیامعروف

یہ بھی پڑھیں

بابا محمّد یحییٰ خان نے نواز شریف کے بارے میں کیا کہہ دیا؟

اینکرحامد میر نے کہا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کا کردارپچھلے پندرہ بیس سال سے بڑا ہی متنازعہ رہاہے کبھی یہ حلفیہ بیان لکھ کر دے دیتے ہیں اور اس میں یہ اعتراف کرلیتے ہیں جی کہ آئی ایس آئی جو ہے اس نے سیاستدانوں کو پیسے تقسیم کئے اور الیکشن میں مداخلت کی ۔منیب فاروق نے کہا کہ اس وقت جو پوزیشن ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ہے وہ بڑی کلیئر ہے کیونکہ اسد درانی کی کتاب میں جو بھی کچھ ہے اس پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں فوج کے اندر او راسی وجہ سے ان کو طلب بھی کیا گیا ہے

جی ایچ کیو میں اور اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ بہت سی باتیں ان کی درست نہیں ہیں اور ایک بڑا کلیئر پیغام دیا جارہا ہے نیشنل سیکورٹی کی حوالے سے فوج کی طرف سے کہ فوج بحیثیت ایک انسٹی ٹیوشن کے کوئی کمپرو مائز نہیں کرے گی ۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ کوئی سیاستدان، بیوروکریٹ، فوجی، کوئی ریٹائرڈ ہو یا حاضر سروس ہو خدا کیلئے یہ سب سے ضروری ہے کہ پاکستان کو عزت دو، پاکستان ہے تو ہم سارے ہیں حامد میر نے کہا کہ اس میں جو سپریم کورٹ ہے وہ اسد درانی صاحب کو اور اسلم بیگ کو Guilty قرار دے چکی ہے 2012ء میں جو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اس میں اسد درانی اور اسلم بیگ Guilty قرار دیئے جاچکے ہیں اس کے علاوہ آپ دیکھیں کہ وہ جو کیس ہے اس میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو کہ اس وقت کی جو فوجی قیادت تھی اور سیاسی قیادت تھی اس کو پتہ نہیں تھا کہ اسد درانی صاحب کراچی میں بیٹھ کر حفیظ پیرزادہ کے گھر پر جو پیسے دے رہے تھے تو وہ جو پیسے گئے تھے وہ جی ایم سید و گئے تھے

یہ بھی پڑھیں

آئی ایس آئی سے 40 کنال اور سڑکوں کا قبضہ چھڑایا جائے: عدالت

اگر یہ نیشنل سیکورٹی کے نام پر کوئی آپریشن کررہے تھے تو حفیظ پیرزادہ کے گھر پر جو اعجاز جتوئی کو پیسے دیئے گئے وہ جی ایم سید کے پاس پہنچے اور اس کی حفیظ پیرزادہ نے تصدیق بھی کی تھی تو یہ Indirectly جو پاکستان توڑنے کا دعویٰ کرنے والے جو لوگ ہیں ان کو پیسہ دے رہے تھے اوراس کا اس وقت کی جو فوجی قیادت تھی اس کو علم نہیں تھا اسلم بیگ صاحب کو بھی اس کا علم نہیں تھا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے بہت سے پچھلے چند سالوں میں انہوں نے ایسے انٹرویوز دیئے ہیں ایسے بیانات دیئے ہیں جس سے کہ براہ راست جو پاکستان کا ایک قومی موقف ہے

یہ اس کے Against جاتے ہیں اب جب امریکی صدر اوبامہ یہ کہہ چکے ہیں کہ جو ایبٹ آباد آپریشن ہوا تھا اس میں پاکستان کی جو سیاسی یا فوجی قیادت ہے اس کا اس کو نہیں تھا پتہ اور اس کو لاعلم رکھا گیا تھا تو اگر امریکی صدر یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان کو اس کا نہیں تھا پتہ تو اسد درانی کہتے ہیں نہیں پاکستان کو پتہ تھا اور پاکستان نے امریکا کی مدد سے یہ آپریشن خود ہی کروایا توپاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایک ایٹمی طاقت کی انٹیلی جنس کا سابق سربراہ اس طرح کی جب غیر ذمہ درانہ گفتگو کرتا ہے تو اس کی کہیں ناں کہیں تو جواب طلبی اور پکڑ ہونا چاہئے تو یہی وجہ ہے

آپ نے دیکھا ہوگا اسد درانی کی حال ہی میں جو کتاب آئی ہے اس کتاب کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ بہت سی باتیں انہوں نے حقائق کے برعکس بیان کی ہیں اور جو بھی آئی ایس آئی کا یا ایم آئی کا جو سربراہ ہوتا ہے وہ اپنے طور پر انفرادی حیثیت میں فیصلے نہیں کرتا اور انفرادی حیثیت میں بہت سے کام نہیں کرسکتا تو جو ان کے دعوے ہیں اس کتاب میں ان کو کراس چیک کیاگیا ہے تو پتہ یہ چلا کہ ان کی بہت سی باتیں غلط ہیں لہٰذا اب فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ ان کو جی ایچ کیو میں بلایا جائے گا اور ان سے جواب طلبی کی جائے گی اور جو کوڈ آف کنڈکٹ ہوتا ہے ریٹائرڈ افسران کا اس کے تحت وہ اس کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے تو یہ بعض ذرائع کے مطابق کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں

تو لہٰذا ان سے جواب طلبی کی جائے گی اور اگر یہ کوئی مناسب جواب نہ دے سکے تو ان کے خلاف انتہائی سخت کارروائی بھی کی جاسکتی ہے اور یہ جو کتاب آئی ہے اس کتاب میں جو ان کے معاون ہیں اے ایس دولت کہ ”را“ کے سابق چیف ہیں وہ اس سے پہلے بھی ایک ایسی کتاب لکھ چکے ہیں جس میں انہوں نے جان بوجھ کر غلط بیان کی تھی کشمیر کی تحریک کے حوالے سے اس میں انہوں نے بہت سے جھوٹ لکھے ہیں اور بہت سے جو تحریک آزادی کے رہنما ہیں ان کی کردار کشی کرنے کی کوشش کی اور کچھ اسی طرح کی باتیں جو ہیں وہ اسد درانی نے بھی اس کتاب میں کی ہیں تو لہٰذا یہ جو کتاب ہے یہ پاکستان کا جو قومی مفاد ہے

اس کے خلاف سمجھا جارہا ہے او رغلط بیانی کی وجہ سے اسد درانی کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کا اندیشہ ہے ۔ اگر آپ انٹرنیشنل میڈیا کو مانیٹر کریں تو اس طرح کی بہت اسٹوریز آرہی ہیں اور ان اسٹوریز میں وہی غلط بیانی نظر آرہی ہے جو اسد درانی صاحب کی کتاب میں بھی ہے اگر تو انہوں نے صرف کوئی تجزیہ دیا ہوتا تو اس میں اعتراض کی بات نہیں تھی لیکن انہوں نے آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے اس کتاب میں جو دعوے کئے ہیں ان میں سے بہت سے بلکہ اکثر دعوے جو ہیں وہ غلط ہیں اور ان کے بہت سے دعوے جو ہیں وہ اس زمانے کے ہیں جب وہ حاضر سروس نہیں تھے

ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو ضرورت سے زیادہ اہم بنانے کے لئے کچھ غلط بیانی سے کام لیا ہے اور یہ جو غلط بیانی ہے اسی کی وجہ سے کافی سارے تحفظات پیدا ہوئے ہیں او رابھی آپ دیکھیں ہرشا نے نیویارک میگزین میں کچھ ایسی باتیں کی ہیں جو اسد درانی کے دعوے ہیں ان سے ملتی جلتی ہیں جبکہ اصل حقائق کچھ اور ہیں تو اسی لئے ایسا لگ رہا ہے یہ جو اسد درانی نے کتاب لکھی ہے یہ کتاب انہوں نے تو نہیں لکھی کتاب تو ان کی اور اے ایس دولت کی گفتگو کو بھارتی صحافی نے کتاب کی صورت میں لکھا ہے

تو اب ہوسکتا ہے کہ اسد درانی کہتے ہیں کہ میں نے تو یہ باتیں کی نہیں ہے جو انہوں نے کتاب میں لکھی ہیں میرے حوالے سے لیکن اب کافی دن گزر گئے ہیں یہ کتاب جو ہے وہ سوشل میڈیا پر بھی دستیاب ہے اس کے اقتباسات پاکستان اور بھارت کے علاوہ بہت سے دیگر اخبارات میں بھی شائع ہوچکے ہیں اور اسد درانی نے ابھی تک ان اقتباسات کی تردید بھی نہیں کی ہے جو انفارمیشن ان کے حوالے سے چھپ رہی ہے اس کی انہوں نے تردید بھی نہیں کی تو اگر تو انہوں نے تردید کردی اور ایک واضح اسٹینڈ لے لیا یہ جو کچھ Specific information ان کے حوالے سے اس کتاب میں شامل کی گئی ہیں اگر وہ اس کو Contradict کردیتے ہیں تو ہوسکتا ہے پر معاملہ ختم ہوجائے ۔ لیکن اگر وہ Contradict نہیں کرتے توپھر لگتا یہ ہے کہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی ۔ اگر آپ اے ایس دولت کا ٹریک ریکارڈ ریکھیں تو اے ایس دولت صاحب نے واجپائی کے دور میں پاکستان اور بھارت کی جو بیک ڈور ڈپلومیسی ہے

اس میں انہوں نے ایک اہم کردار ادا کیا تھا اور اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں جو تحریک آزادی چل رہی ہے اس کو کچلنے کے لئے ناصرف انہوں نے ایک طرف فوجی طاقت کا استعمال کیا بلکہ دوسری طرف انہوں نے ڈس انفارمیشن کو ایک اقرار کے طور پر استعمال کیا اور اسی ڈس انفارمیشن کو مزید انہوں نے ہتھیار بنانے کے لئے ایک کتاب لکھی جس میں کوئی ان کا دوسرا معاون نہیں ہے اور اس کتاب میں انہوں نے بہت سے جو کشمیری لیڈر ہیں ان کے بارے میں بالکل جھوٹ لکھا تو اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اسد درانی کو اس آدمی کے ساتھ مل کر کتاب پر اپنا نام نہیں دینا چاہئے تھا لیکن انہوں نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے

اور ناصرف یہ کہ ایک ایسے بندے کے ساتھ مل کر کتاب لکھ دی بلکہ خود بھی کچھ ایسے دعوے کردیئے ہیں جو کہ بالکل بے سروپا اور بے بنیاد ہیں ۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ اسد درانی نے آرمی سے ، جی ایچ کیو سے کلیئر نہیں کروائی جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہم نے ایک حلف لیا ہوا ہوتا ہے سروس میں آپ ہوں یا ناں ہوں کیونکہ سروس میں ہوتے ہوئے بہت ساری چیزیں آپ کے پاس راز ہوتی ہیں اور وہ چیزیں قومی راز ہیں اور توقع یہ کی جاتی ہے کہ جو حلف اٹھایا ہے آپ نے اس کے تحت ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آپ اس کے امین رہیں گے تو اگراس میں انہوں نے کوئی ایسی بات کی ہے

میں نے پوری کتاب دیکھی نہیں اس کے صرف اقتباسات دیکھے ہیں تو جی ایچ کیو نے تو پورا ریویو کرکے اس میں سے ان کے لئے سوالنامہ بنایا ہوگا جس پر وہ ان سے وضاحت مانگیں گے مثلاً ایک چیز جیسے اسامہ بن لادن کے بارے میں ہماری سرکاری لائن اور جی ایچ کیو کی اپنی جو لائن ہے وہ یہ ہے کہ اسامہ کی لوکیشن او راس کے وہاں ہونے کا ہمیں بالکل علم نہیں تھااب اگر اسد درانی کہتے ہیں کہ نہیں جی کسی ناں کسی کو پتہ تھا تو یہ الزام بن جاتا ہے کہ وہ باوجود اس کے کہ ایک وضاحت ہماری طرف سے موجود ہے کہ ہمیں پتہ نہیں تھا اور وہ

آپ کے اوپر الزام لگارہے ہیں کہ نہیں آپ کو پتہ تھا تو پھر ان سے جواب مانگا جائے گا ، ثبوت مانگا جائے گا اور اگر وہ یہ چیز نہیں بتاسکتے تو پھر لازماً تو پھر یہ سمجھا جائے گا کہ انہوں نے ایک غلط کنڈکٹ اپنا استعمال کیا جس کی وجہ سے آرمی کی شہرت کو نقصان پہنچا تو پھر اس کے اوپر ان سے جواب طلبی بھی ہوگی اور اگر وہ جواب میں مطمئن نہ کرسکے تو پھر ان کے خلاف ایکشن ہوگا اور یہ ایکشن کئی قسم کے ہوسکتے ہیں جس میں پینشن کا روکنا بھی ہوسکتا ہے اس میں اگر کوئی بہت سیریز بات ہو تو سزا ہوسکتی مقصد کہنے کا یہ ہے کہ کئی قسم کی سزائیں ہیں جو دی جاسکتی ہیں اس بنیاد پر آپ نے جو الزامات لگائے ہیں

وہ کس قسم کے ہیں ۔اسد درانی کو جبری ریٹائر کیا گیا تھا وہ حقیقت ہے جب وہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو ابھی بھی اس کا وہ مقدمہ بھگت رہے ہیں تو اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف کو پتہ چلا کہ سیاست میں انہوں نے کچھ دخل اندازی کی ہے کچھ ایسا کام کیا ہے تو چنانچہ ان کو فوری طو رپر آئی ایس آئی سے تبدیل کرکے جی ایچ کیو میں لے آیا گیا تھا ۔ اب جی ایچ کیو میں آئے تو وہاں پر پتہ چلا کہ وہ پھر اپنی پرائیویٹ Private Capacity میں پھر سیاست میں دخل دے رہے ہیں تو پھر ان کو جبری ریٹائرکردیا گیا تھا ۔منیب فاروق نے کہا کہ اس وقت جو پوزیشن ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ہے وہ بڑی کلیئر ہے

کیونکہ اسد درانی کی کتاب میں جو بھی کچھ ہے اس پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں فوج کے اندر او راسی وجہ سے ان کو طلب بھی کیا گیا ہے جی ایچ کیو میں اور اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ بہت سی باتیں ان کی درست نہیں ہیں اور ایک بڑا کلیئر پیغام دیا جارہا ہے نیشنل سیکورٹی کی حوالے سے فوج کی طرف سے کہ فوج بحیثیت ایک انسٹی ٹیوشن کے کوئی کمپرو مائز نہیں کرے گی نیشنل سیکورٹی کے اوپر اور اسد درانی کو بھی جو ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ ہے اس کی خلاف ورزی پر اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی کیونکہ فوج کی طرف سے احتساب کا پیغام دیا گیا ہے لہٰذا بڑی کلیئر پوزیشن اپنانی پڑے گی اسددرانی صاحب کو ان کو بتانا پڑے گا کہ انہوں نے جو Content دیا ہے

اپنی کتاب کے اندر اس کا Justifyبھی کرنا پڑے گا اور اگر اس میں کچھ غلط ہے جس کے اوپر تحفظات ہیں فوج کے تو تحفظات بھی دور کرنے ہوں گے ۔انہوں نے جو بھی باتیں لکھی ہیں اس سے یہ بات تو ظاہر ہوجاتی ہے کہ جو بھی ماضی میں ہوتا رہاہمارے ملک میں آج اس وقت ملٹری اسٹیبلشمنٹ اس کو کسی طرح کا بھی کور دینے کو تیار نہیں ہے اور بڑی کلیئر پالیسی ہے نیشنل سیکورٹی کے ایشو کے اوپر ۔میجر (ر) اعجاز اعوان نے کہا کہ میرے علم میں اس وقت یہ نہیں ہے کہ جی ایچ کیو کسی حتمی نتیجے پر پہنچ گیا ہے مجھے صرف اتنا پتہ چلا تھا ابھی وہ بھی میڈیا کہ ذریعے کہ ان کو جی ایچ کیو میں طلب کیا گیا ہے

یقیناً ان سے پوچھا جائے گا کہ اس کتاب کے جو Contentہیں اب میری مجبوری اس وقت یہ ہے کہ میں نے وہ کتاب پڑھی نہیں ہے کچھ لوگوں کے پاس وہ گردش کررہی تھی سوفٹ کاپی اس کی لیکن مصروفیت کی وجہ سے میں اس کو پڑھ نہیں سکا ۔ اگر انہوں نے کچھ ایسے انکشافات کئے ہیں جو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے زمرے میں آتے ہیں یا سروس میں ان کو ان رازوں کا علم تھا جب ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو یقیناً انہوں نے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اگر ایسا ہے تو ان کو قانون کے مطابق سزا ضرور ملے گی ۔ میرا خیال ہے ان کا اتنے سینئر آفیسرز کو بلالینا اور اس کا مواخذہ کرنا یہ بڑی اچھی بات ہے یہ ہونا چاہئے او راس سے پیغام یہ جاتا ہے پوری قوم میں کہ کوئی سول ملٹری کی تفریق نہیں ہے اگر کوئی نیشنل سیکریٹ ہے

جو آفیشل سیکریٹ کی زمرے میں آتا ہے وہ اس جرم کا جو بھی ارتکاب کرے گا اس کا مواخذہ کیا جائے گا اور قانون اس کو اپنی گرفت میں لے گا ا ور یہی ہونا چاہئے کہ تمام پاکستانیوں کے حقوق برابر ہیں بلکہ اس صورت میں اس کی حساسیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ اگر آپ کو دوران سروس کچھ ایسے رازوں کا علم تھا جس کے آپ مرتے دم تک امین ہیں کیونکہ حلف جو ہم اٹھاتے ہیں اس کی کوئیExpiry date نہیں ہوتی کہ اس کے ایکسپائر ہونے کے بعد آج جو دل کہے کہتے پھریں کیونکہ ہمیں تو ان سیکریٹ کو مرتے دم تک اپنے سینے میں رکھنا ہوتا ہے اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ ہر صورت میں لاگو رہتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی کتاب کے Content کیا ہیں انہوں نے کس جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اگر ایسی بات ہوئی ہے

تو قانون اپنی راہ ضرور لے گا ۔ بہت سارے موضوعات پر کوئی پابندی نہیں ہوتی آپ کے ڈے ٹو ڈے لائف ہے ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد آپ سیاست میں بھی حصہ لے سکتے ہیں ،آپ کاروبار بھی کرسکتے ہیں اگر آپ ملک سے باہر جانا چاہیں تو آپ کلیرنس لے کر جی ایچ کیو سے ملک سے باہر بھی جاسکتے ہیں اس طرح کی چیزوں پر تو کوئی پابندی نہیں ہوتے لیکن جو آفیشل سیکریٹ ایکٹ یا جو سرکاری راز ہیں ان کی حفاظت کرنا آپ کی ایک مورل اور قانونی ذمہ داری بہر صورت رہتی ہے اور اس کے خلاف جب بھی آپ جرم کریں گے تو آپ قانون کی گرفت میں آئیں گے ۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں جن جن لوگوں نے 1971 جنگ کے بعد بہت سارے آفیسرز تھے جن پر کچھ مقدمات چلائے گئے اور انہوں نے وہاں انڈیا جیل میں رہتے ہوئے کام کئے یا بنگلہ دیش میں کئے یا واپس آکر کئے تو یقیناً ان کے خلاف کارروائیاں ہوئی ہیں اور یہ ہوتی رہتی ہیں

اور یہ ایک معمول ہے ،میرے علم میں نہیں ہے کہ کس وجہ سے اسد درانی کو جبری ریٹائرڈ کیا گیا تھا کیونکہ یہ بہت سینئر لوگ ہیں اور بہت پہلے ریٹائر ہوئے ہیں اس لئے میرے علم میں نہیں ہے کہ کیا وہ واقعی جبری ریٹائر ہوئے تھے او راگر ہوئے تھے تو کس وجہ سے ہوئے تھے ۔ شہزاد چودھری کا تجزیہ شہزاد چودھری کا اسد درانی کی کتاب کے حوالے سے کہنا ہے کہ میں نے کتاب پڑھی نہیں ہے گو کہ اس پر بہت ساری چیزیں نکل رہی ہیں اخباروں میں چھوٹے موٹے اس کے ٹکڑے آتے ہیں پتہ لگتے رہتے ہیں لیکن یہ جانتا ہے کہ جنرل درانی بہت پہلے فوج چھوڑ چکے تھے اور ان کو ریٹائر کر دیا گیا 92-93 کی بات ہے سروس سے ریٹائر ہوئے تھے اس کے بعد سے اب یہ ٹائم جتنا گزرا ہے یہ تمام واقعات اس سے متعلق ہیں اب کس حد تک اُن کی پہنچ تھی انفارمیشن تھی کس طریقے سے وہ جائز قرار دیتے ہیں ہم میں سے بہت سارے لوگ فوج سے یا بیوروکریسی سے نکلتے ہیں وہ پھر اخبارات میں لکھتے ہیں

آرٹیکل جو رائے کے ٹکڑے( Opinion pieces )ہوتے ہیں ظاہر ان تمام چیزوں کے اندر ہم اپنی رائے دے رہے ہوتے ہیں ضروری نہیں ہوتا ہماری رائے جو ہے وہ سو فیصد انفارمیشن کے مصدقہ اصول کے تحت پوری آتی ہو اس لئے میرا خیال ہے بہت ہی سمجھ بوجھ کے ساتھ اگر اس کو نوٹس کیا ہے فوج کو بھی کتاب کو حرف حرف پڑھنا پڑے گا پھر دیکھنا پڑے گا رائے میں فرق ہوسکتا ہے کسی چیز کے بارے میں اور کچھ چیزیں جو میں نے دیکھی ہیں اس میں مجھے اُن کی رائے سے اختلاف ہے اُن کی پوری خبر نہیں ہے جس کے بارے میں وہ بات کر رہے ہیں اس وقت میں اپنی سروس میں اُن چیزوں کے بارے میں جانتا ہوں اور میں اس وقت چونکہ حاضر سروس تھا ایئر فورس میں تھا اس لئے مجھے پتہ ہے میرے سامنے کی باتیں ہیں کہ کس طرح ہوئی ہیں لیکن اُن کے لئے وہ صرف ایک رائے کا درجہ رکھتی ہیں وہ چیزیں بہت سوچ سمجھ کر اس پر چلنا پڑے گا بہرصورت اگر بلایا فوج نے اُن کو کہ آکے وہ پوچھیں یا اُن کو بتائیں کہ اگر وہ کوئی چیز نوٹ کرتے ہیں

اس میں وہ مناسب نہیں ہے اس کے بعد ضرور پوچھا جانا چاہیے اس کے بارے میں دو رستے ہوتے ہیں ایک تو فوج آپ کا ادارہ بلا سکتا ہے اور دوسرا کوئی بھی شہری عدالت میں جا کے اگر سمجھے کسی طریقے سے آپ کی ریاست یا آپ کے ملک و قوم کے خلاف بات کہی گئی ہے یا راز افشاں ہوا ہے تو اس کے بارے میں شکایت کی جاسکتی ہے اور عدالت نے بھی شہری کے طور پر مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔ اس میں جو محسوس کرتا ہوں ایک ذاتی اُن کی اپنی گفتگو اُن کا نام تو ضرور اس میں شامل آیا انٹرویو میں شامل ہوا لیکن یہ ججمنٹ کہ کیا ان کو اس قسم کی گفتگو کسی را کے سابق چیف کے ساتھ بیٹھ کر کرنی چاہیے تھی یا انٹرویو کا حصہ بنا چاہیے تھا یہ ججمنٹ غلط تھی چاہے وہ باتیں رائے ہیں یا مس انفارمیشن ہے یا وہ ڈیس انفارمیشن ہے جس میں بھی شعبہ میں ڈالا جائے وہ پاکستان کے اندر ہے اور پاکستان اور بھارت کے معاملات میں کنفیوژن اٹھا سکتا ہے اس لئے ہم جتنے بھی ریٹائرڈ لوگ ہیں جو کہ ہم میڈیا پر آکر بات کرتے ہیں لکھتے ہیں اخبارات کے اندر اپنے پوائنٹ آف ویو دیتے ہیں میرا خیال ہے بہت بڑا سنسر ہمارے اوپر لگا ہوتا ہے

کہ ہمارے منہ سے کوئی ایسا لفظ نہ نکلے جو پاکستان کے افواج یا ریاست یا پاکستان کے ایمج کو نقصان پہنچائے یہ نہیں ہوتا ہم جانتے نہیں ہیں ہم بہت کچھ جانتے ہیں لیکن یہ ایک خود ساختہ سینسر شپ ہوتی ہے کہ کس حد تک گفتگو کرنی ہے کتنا شیئر کرنا ہے کسی چیز کو یہ دوسری چیزہے جو انہوں نے غلط کی ہے اور وہ غلطی ظاہر ہے کہ اس کے اثرات اب سامنے آرہے ہیں اور تیسرا اپنی اپنی ایک شخصیت کا پہلو بھی ہوتا ہے درانی صاحب بہت قابل اور سمجھدار آدمی ہیں بدقسمتی سے کئی مرتبہ اس طریقے سے گفتگو کرجاتے ہیں اور یہ ان کا پوری سروس پیٹرن کا حصہ رہا ہے جس میں غالباً عام طور پر عام آدمی سمجھ بوجھ کے بات کرے گا جو کہ وہ نہیں کسی وقت کر پاتے اسی میں وہ بہہ کے وہ بات کرگئے اس کے نتائج جو ابھی سامنے آرہے ہیں

اکثر مجھے لگتا ہے خبر یا بات زیادہ نہیں ہوگی لیکن اس کے اثرات اور جس قسم کا ہمارے ہاں ماحول پیدا ہوا ہے اس کے مضر اثرات زیادہ ہوں گے افواج پر افواج کی ایمج پر اور پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر پاکستان کے جو بنیادی انٹرسٹ ہیں اُن پر شاید ان کی گفتگو میں اتنا مواد صحیح بالکل نہیں ہوگا جتنا کہ وہ بلیم کر رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنی ایک رائے رکھنے والے آدمی رہے ہیں وہ کبھی بھی جس طرح ہم tipicalفوجی کو ہم سوچتے ہیں اپنے دماغ میں کہ وہ شاید اپنی آواز اتنا کھلے طور پر بیان نہیں کرتا لیکن یہ ایسے رہے ہیں کہ انہوں نے کھل کے اپنی سوچ کا اظہار کیا کسی بھی صورت کے اندر چاہے وہ ضیا کے سامنے بھٹو کی پھانسی کا معاملہ تھا یا کوئی اور معاملہ جہاں بھی رہے انہوں نے اپنی سوچ کا اظہار کیا اس کے باوجود اپنی قابلیت کے بل بوطے پر بہت کلیدی عہدوں پر رہے لیکن جب آپ چھوڑ دیتے ہیں اس چیز کو تو پھر اس کے بعد آپ پر لازم ہوجاتا ہے

کہ آپ اس انفارمیشن کے امین بن جاتے ہیں جو کہ آپ کے پاس ہوتی ہے اس کو اس طرح سے کھلے چاہے آپ اپنا اظہار خیال ہی کیوں نہ کر رہے ہوں لیکن پھر انفارمیشن اور خیال کے اندر لوگوں کے لئے تفریق کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہاں آپ انفارمیشن دے رہے ہیں اور کہاں پر صرف آپ کی اپنی سوچ ہے وہاں غلطی کر جاتے ہیں جہاں تک کتاب لکھنے کا تعلق ہے ہر ایسا چیپٹر یا کوئی ایسی کتاب جو کہ پاکستان کی افواج یا اُن سے متعلق ہو جو کہ پاکستان کی افواج یا اُن سے متعلق ہو یا اُن کے کسی پہلو پر اپنی رائے دے اس کا آپ کو کلیئرنس دینی پڑتی ہے اپنے اداروں سے اس سے پہلے کہ آپ پبلش کریں یہ اصول ہے اس میں تمام چیزیں آپ اگر سیمی آفیشلی یا آفیشلی یا پرائیوٹ کپسیمنٹ درج کرتے ہیں بہرصورت آپ پر یہ قانون لاگو ہوتا ہے اور آپ کو اس کا دھیان کرنا پڑتا ہے انہوں نے اس کتاب کے اندر یہ کیا انٹرویوز ہیں آپ انٹرویوز کے اوپر آپ کسی ایک تیسرے آدمی کے ساتھ بیٹھ کے انٹرویو کر رہے ہیں چہ جائیکہ آپ کو پتہ بھی ہے

ہاں یہ آدمی اصل میں یہ کتاب کی شکل میں لے کر آئے گا اس کو بعد میں اگر آپ اس کو فیڈ کر رہے ہیں انٹرویو کی شکل میں دے رہے ہیں تو پھر بھی بات کرنے سے پہلے اس قسم کی کلیئرنس پاکستان فوج سے لینا لازم تھا اس کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں جیسے کہ آپ نے پوچھا ایک تو یہ ہے کہ ایکسپریشن ہے ایکسپریشن کے بعد جیسے میں بار بار کہہ رہا ہوں ہم میں سے بہت ساروں نے پوری کتاب پڑھی بھی نہیں ہے میں نے تو نہیں پڑھی جب تک آپ کتاب پڑھیں نہ جو میں نے ٹکڑے پڑے ہیں اس میں سوائے رائے کے سوائے ایک ایسے آدمی کے جو کہ اپنے خیالات کا اظہار کر رہاہے کسی چیز کے بارے میں جس کا اُس کو بالکل پتہ نہیں ہے اس سے کم از کم بیس پچیس سال پہلے ریٹائرڈ ہوچکا ہے مجھے سمجھ نہیں آتا کس بنیاد پر اظہار کر رہے ہیں ہاں لیک آف ججمنٹ پر بات کرنا جس کو آپ کوپتہ نہیں ہے خاص طور پر ایسے ایشوز کے اوپر جو پاکستان کے ایمج پاکستان کے افواج کے ایمج بیرونی تعلقات کے بارے میں بالکل ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس میں منفی تاثر آتا ہے وہاں بہت بڑی غلطی ہے جو ان کا قصور ہوگا جو ڈیٹرمین ہوگا وہ اپنے قانون کے مطابق دیکھیں گے کس قسم کی سزا لاگو ہوتی ہے نہیں ہوتی۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ کوئی سیاستدان، بیوروکریٹ، فوجی، کوئی ریٹائرڈ ہو یا حاضر سروس ہو خدا کیلئے یہ سب سے ضروری ہے کہ پاکستان کو عزت دو، پاکستان ہے تو ہم سارے ہیں

، پاکستان نہیں ہوگا تو کچھ بھی نہیں ہوگا، اسد درانی کو ضرور کہوں گا کہ ایک دفعہ گھانا، برونڈی یا کینیا جائیں وہاں جاکر دیکھیں کہ وہاں کیا ہے اور یہاں کیا ہے، جو عزت ان کو اس ملک نے دی ہے اسے انہیں اس طرح نہیں لوٹانا چاہئے، دوسری بات ہے کہ اداروں کو کھڑا ہونا چاہئے، پارلیمنٹ ہو کوئی بھی ہو، فوج نے تو یہ ایکشن لے لیا کیونکہ ان پر تو ساری زندگی کوڈ آف کنڈکٹ لاگو ہے، یہ جوابدہ ہوں گے اور وہ ان کو سزا بھی دے گی اور فوج سزائیں بھی دیتی ہے مگر باقی اداروں کو بھی کوئی جو اس ملک کے حوالے سے بات کرتا ہے یا کوئی لیفٹ رائٹ ہوتا ہے تو ان اداروں کو کھڑا ہونا چاہئے، صرف اداروں میں آکر تقریریں کرنے اورا چھے اچھے بھاشن سنا کر نہ نکل جائیں، شخصیات بڑی نہیں ہوتیں ملک اور ادارے بڑے ہوتے ہیں، وقت آگیا ہے کہ اب ہم صرف باتیں نہ کریں اس ملک کو عزت دیں۔ ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا کہ اسد درانی نے یہ کتاب لکھی اورا س میں بہت سی متنازع باتیں کیں، انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کا علم تھا، یہ تاثر دیا کہ پاکستان کو علم تھا اور پاکستان نے ہی اسامہ بن لادن کا آپریشن کروایا، انہوں نے تو ہندوستان اور پاکستان کی کنفیڈریشن کا بھی آئیڈیا خود ہی پیش کردیا ، انہوں نے دلت کے ساتھ بہت ہی متنازع کتاب لکھی، دوسری طرف اے ایس دلت کی طرف سے جو باتیں کی گئیں وہ ہندوستان کے موقف کے بہت قریب تھیں، اسد درانی نے پاکستان کو بہت متنازع پیش کیا، پاکستان کی فوج کو بڑا متنازع پیش کیا، پاکستان کی وزارت دفاع، پاکستان کے جو ملٹری قوانین ہیں دونوں یہ ڈیمانڈ کرتے ہیں کہ اس طرح کے حساس عہدوں پر براجمان افراد جب کوئی کتاب لکھیں گے تو اس کی weighting کی جائے گی، اب مجھے نہیں معلوم کہ وزارت دفاع کے وزیر صاحب اگر اس وقت جاگ جائیں تو وہ اپنا موقف دیں اور آپ کو اور مجھے بتائیں کہ وزارت دفاع کا اس کے اوپر موقف کیا ہے، کیا ان سے اجازت لی گئی تھی، کیا وزیراعظم ہاؤس سے اجازت لی گئی تھی، کیا فوج کے ادارے ہیں جی ایچ کیو سے اجازت لی گئی تھی، اگر ان اداروں سے اجازت نہیں لی گئی تو ظاہر ہے کہ یہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہے، آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، اسد درانی کا جو کردار ہے وہ ہم نے اصغر خان کیس میں بھی دیکھا کہ جس طریقے سے انہوں نے پیسے بانٹے، جس طریقے سے انہوں نے یہاں آئی جے آئی کو بنوایا، اس تمام کردار کے بارے میں بھی ہمیں علم ہے تو ظاہر ہے کہ وہ بہت متنازع ماضی کے حامل ہیں اور حال میں انہوں نے پاکستان کی فوج کو متنازع کر کے ظاہر ہے کوئی اچھا کردار نہیں کیا اور یقینی طور پر ان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے