سچائی ظاہر ہوکر رہتی ہے

سیّد طلعت حسین

سچائی کو سلام! اسے نہ دیر تک دبایا جاسکتا ہے نہ چھپایا۔ یہ غیر متوقع مقامات، عجیب اوقات اور غیر معمولی طریقوں سے ابھر کر سامنے آجاتی ہے ۔ اُس وقت اسے چھپانے والوں، یا اس کا گلا گھونٹنے والوں کو سبکی اور ندامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایک عظیم ادارے کی طاقت، جو قسمت نے اُس کی کمان میں دے دی، کو استعمال کرتے ہوئے اپنا کیرئیر بنانے کا متمنی ایک طاقتور آرمی چیف، اپنی محفوظ پوزیشن اور طاقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے والا آئی ایس آئی کا ایک سربراہ، دولت سے مالامال غیبی ہاتھ، باہم مسابقت اور مناقشے میں الجھے ہوئے سیاست دان ،جو انتخابی سیاست کی بساط پر کھیلے جارہے سانپ اور سیڑھی کے کھیل میں ایک دوسرے کو مات دینے پر کمر بستہ تھے۔۔۔ یہ ہے کہ مشہور اصغر خان کیس کا کل خلاصہ۔ بھاری رقوم (90 ء کی دہائی کے لحاظ سے ) اکائونٹس سے نکل کر مختلف سیاست دانوں کی جیبوں میں گئیں۔ اس کا بظاہر مقصد 1990ء کے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونا تھا۔ اور نواز شریف نے وہ انتخابات جیتے جنہیں عمومی طور پر دھاندلی زدہ کہا جاتا ہے ۔

مندرجہ بالا معلومات میں کوئی بھی نئی بات نہیں۔ انیس اکتوبر 2012ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے میںیہ تمام تفصیل موجود ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کچھ جنرلوں ، رقوم فراہم کرنے والے یونس

حبیب، اُس وقت کے صدرِ پاکستان غلام اسحاق خان ، اور رقوم، جو غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوئی، وصول کرنے والوںکے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے ۔ تاہم کئی عشروں پر محیط جمہوری ادوار میں اس کیس پر پیش رفت نہ ہوسکی۔ اب سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے اور قصورواروں کا تعین کرنے کا حکم دیا ہے ۔ جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی، جو معمر اور جسمانی طور پر کمزور ہیں، سے تحقیقات ہورہی ہیں۔

ایف آئی اے کی تحقیقات نے تاریخ کے نہاں خانوںسے تمام راز باہر نکال کر رکھ دئیے ہیں۔ اس نے سیاست کے اس فیصلہ کن مرحلے پر ہماری قومی یادداشت ، جس کی عمر زیادہ نہیں، کو تازہ کردیا ہے ۔

جنرل بیگ اور جنرل درانی ایک دوسرے کے خلاف دلائل دے رہے ہیں۔ ایک جنرل دوسرے پر الزام لگاتا ہے کہ وہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہے ۔ دوسرا کہتا ہے، جیسا کہ اس نے اپنے دستخط شدہ بیان ِ حلفی( جو اصغر خان کیس کی بنیاد بنا) میں کہا تھاکہ وہ محض اپنے باس کے حکم کی تعمیل کررہا تھا۔یہ بیان ِ حلفی اس طرح ہے : ’’میں، لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد اسد درانی حلفاً کہتاہوں کہ ستمبر 1990ء کومجھے بطور ڈی جی آئی ایس آئی ، اُس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اسلم بیگ کی طرف سے ہدایات ملیں کہ میں کراچی کے کچھ کاروباری افراد کی طرف سے آئی جے آئی (نو جماعتوں کا الائنس جس نے 1990 ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور نواز شریف پہلی مرتبہ وزیر ِاعظم بنے)کی انتخابی مہم میں معاونت کے لئے بھجوائے گئے عطیات کی تقسیم کے لئے ’’لاجسٹک سپورٹ‘‘ فراہم کروں۔۔۔‘‘

جنرل اسد درانی نے یہ بیان ِ حلفی 1994ء میں دیا جب وہ جرمنی میں پاکستان کے سفیر تھے ۔ اُنہیں بے نظیر بھٹو نے سفیر نامزد کیا تھا۔ وہی بے نظیر جن کی پارٹی سے جنرل درانی نے 1990 ء کے انتخابات چرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم کو دئیے گئے اپنے حالیہ بیان میں جنرل بیگ تمام الزام جنرل درانی کے کندھوں پر ڈال رہے ہیں۔ جنرل بیگ کے مطابق جنرل درانی اپنے عہدے کو حاصل طاقت اور اختیار ات کو آزادانہ طور پر استعمال کرتے ہوئے یا تو اپنے سیاسی مقاصد پر عمل پیرا تھے، یا اُس وقت کے صدر، غلام اسحاق خان مرحوم کے کسی ایجنڈے پر کام کررہے تھے ۔

جنرل بیگ کا جنرل درانی کے طرزعمل پر تبصرہ ایک تکلیف دہ تحریر ہے ، خاص طور پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ دونوں جنرل صاحبان ماضی میں انتہائی اہم عہدوں پر فائز تھے ۔ جنرل بیگ کا کہنا ہے کہ اُنھوںنے جنرل درانی کو خبردار بھی کیا تھا کہ وہ فوج کو ’’سیاسی انجینئرنگ ‘‘ میں ملوث کرنے سے باز رہیں۔ تاہم یہ بات واضح نہیں کہ ایک ڈی جی آئی ایس آئی، جو سویلین سیٹ ا پ کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے ، کس طرح فوج کو آرمی چیف کی مرضی کے بغیر کسی ’’سیاسی انجینئرنگ ‘‘میں گھسیٹ سکتا ہے؟ لیکن سابق آرمی چیف نے اپنے دفاع میں یہی دلیل دی ہے ۔

ضیا دور کے خاتمے کے بعد ہونے والے منصفانہ انتخابات جمہوری عمل کو مستحکم کرسکتے تھے ۔ چنانچہ اس سے قطع نظر کہ ڈور کون ہلا رہا تھا، یا انتخابات پر اثر انداز ہونے کی زیادہ ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ، اس افسوس ناک منصوبے کا جواز اس سے بھی زیادہ شرمناک ہے ۔ یہ جواز ایک اور بیان ِحلفی کی صورت بریگیڈیر حامد سعید اختر کی طرف سے آیا جنہیں سپریم کورٹ بنچ نے اس کیس میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ بریگیڈیر اختر اُس ٹیم کے اہم ترین رکن تھے جس نے اکائونٹس کھولے اور ’’سیاسی انجینئرنگ ‘‘میں اہم کردار ادا کیا۔

سپریم کورٹ کے اکتوبر کے فیصلے میں اُن کے بیان( جبکہ وہ کراچی میں ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ تھے) کا خلاصہ یہ ہے کہ پی پی پی کی حکومت (1988-1990) نے شہر ِ قائد کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا، اور کیے جانے والے آپریشنز، جن میں حیدر آباد کا پکا قلعہ آپریشن بھی شامل تھا، کی وجہ سے اردو بولنے والی مہاجر قوم پر مشتمل جماعت کومدد کے لئے بھارت کی طرف دیکھنا پڑا۔ بریگیڈیر صاحب کا بیان (جو اُن کے منصب اور ذمہ داری کے حوالے سے عجیب دکھائی دیتا ہے )کہ اُس سال کے آغاز میں ’’وزیر ِاعظم نے کھلے عام فوج پر تنقید کی تھی کہ یورینیم کو اس حد تک افزودہ کیا جارہا ہے جو عالمی طاقتوں کے لئے قابل ِقبول نہیں۔ اُنھوںنے بی بی سی کو ایک انٹرویو بھی دیا تھا جس میں اُنھوںنے خالصتان کی تحریک کو کچلنے میں بھارت کی مدد کا اعتراف کیا تھا۔۔۔ اُنھوںنے اجازت کے بغیر سندھ میںسالانہ مشقیں کرنے پر بھی فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔‘‘

بریگیڈیر اختر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں۔۔۔’’ آئی ایس پی آر کو پریس ریلیز کے ذریعے یہ بات واضح کرنا پڑی کہ قانون کے مطابق آرمی چیف ملک کے کسی بھی حصے میں فوجی مشقیں کرنے کے لئے اجازت نامہ حاصل کرنے کے پابند نہیں۔ یہ تمام واقعات اُس وقت کے پرنٹ میڈیا میں رپورٹ ہوئے تھے( اُس وقت پرنٹ میڈیا بھی اتنا ہی فعال تھا جتنا آج الیکٹرانک میڈیا)۔

ان کے بیان کے دیگر حصے اُس وقت کی حکومت کے خلاف چارج شیٹ مکمل کرتے ہیں کہ اس نے الذوالفقار کے کارکنوں کو سرکاری محکموں، جیسا کہ ریلوے، پی آئی اے اور کسٹم میں ملازمتیں دیں۔ اُنھوںنے اپنا بیان یہ کہتے ہوئے مکمل کیا کہ اُس وقت عام آدمی کا تاثر یہ تھا(یہ تاحال ایک راز ہے کہ اُنھوںنے ایک سو بیس ملین افراد کا عمومی تاثر کیسے لے لیا) حکمران جماعت کو ووٹ تو ملے ہیں لیکن یہ ملک چلانے کے تصو ر سے تہی دامن ہے ۔

یہ چارج شیٹ وضاحت کرتی ہے کہ جنرل اسد درانی کے ممکنہ غیر قانونی احکامات پر عمل کرکے بنک اکائونٹس کیوں کھولے گئے اور کچھ سیاست دانوں اور تنظیموں میں فنڈز کیوں تقسیم کیے گئے ؟یہ بات بر یگیڈیر نے کھلے الفاظ میں نہیں کہی لیکن اُن کے بیان سے یہی واضح ہوتا ہے کہ اُن کے نزدیک بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کیے جانے ، اور اُن کی جگہ کوئی اور زیادہ قابل ِا عتماد اور محب وطن بندوبست لانے کی ضرورت تھی ۔۔۔ ایسی حکومت جو غیر ملکی طاقتوں کے مفادات کو مقدم نہ سمجھے اور نہ ہی قومی سلامتی کے امور پر احمقانہ سوالات اٹھائے۔

ممکن ہے کہ بریگیڈیر اختر، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، اُس وقت کے صدر ِ پاکستان اور تمام وہ افراد جو 1990ء کے انتخابات پر اثر انداز ہوئے اور اپنی کاوش سے ایسے سیاست دانوں کو اقتدار میں لائے جو قابل ِ اعتماد تھے ، وہ اپنے تئیں درست کام کررہے تھے ۔

یہ ایسی ہی صورت ِ حال ہے جس میں آئین اور اپنے حلف سے انحراف کرتے ہوئے ایسے اقدامات اٹھائے گئے اور سرکاری میٹنگز کے دوران یہ کہہ کر ان اقدامات کا دفاع کیا گیا کہ وہ ’’وقت کی ضرورت ‘‘ تھے۔ اس طرح اُن کے پاس اپنا ضمیر مطمئن کرنے کا جواز موجود تھا۔

جو بات ناممکن ہے وہ یہ کہ دونوں جنرل صاحبان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ عمرکے آخری حصے میں ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوجائیں گے ۔ جب وہ اپنے طاقت ور عہدوں پر تھے تو وہ خود کو قانون اور احتساب کی پہنچ سے باہر خیال کر تے تھے ۔ چنانچہ اُنھوں نے کسی رکاوٹ کے بغیر اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھایاہوگا۔ لیکن زندگی افسانوںسے بھی زیادہ عجیب ہوتی ہے ۔ یہ پہاڑوں کو پیس کر ذروں ،اور سمندوں کو خشک زمین میں بدل دیتی ہے ۔ اب اپنی زندگی کے آٹھویں عشرے میںوہ ایف آئی اے کے تفتیش کاروں کے سامنے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ ۔۔ زمیں کھاگئی آسماں کیسے کیسے ۔

اگر اُنہیں پتہ ہوتا کہ کبھی اُنہیں بھی اپنے افعال پر جوابدہ ہونا پڑے گا تو کیا وہ اس سے مختلف طرزعمل کا مظاہرہ کرتے ؟ کیا پتہ۔ ہم اس معاملے میں پورے وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ لیکن تادیب کا خوف انسان کو قدم اٹھانے سے پہلے سوچنے پر مجبور ضرور کرتا ہے ۔ ایک اور بات، ان جنرلوں کے بعد آنے والوں نے بھی یہی کچھ کرنے کی کوشش کی، حالانکہ اُن کے سامنے ناکام سیاسی تجربات کی ایک طویل تاریخ موجود تھی ۔لیکن اُنھوںنے اس سے کوئی سبق نہ سیکھا۔ اصغر خان کیس پڑھ کر دماغ مائوف ہوجاتا ہے کہ ہمارے ساتھ کیا کیا ہوتا رہا۔