انکشافات سنیں اور فیصلہ کریں کہ غدار کون؟

اسلام آباد(اعزازسید)لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے آئی ایس آئی اور را کے سربراہان کے درمیان اداروں کی سطح پر ملاقات کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئےانکشاف کیاکہ انھوں نے1991میں بطور انٹرسروسز انٹلیجنس(آئی ایس آئی)سربراہ خفیہ طورپر ریسرچ اینڈ اینالیسزونگ (را)کےسربراہ سے سنگاپور میں ملاقات کی تھی۔ یہ 1991میں سنگاپورمیں ہوئی تھی۔ باجپائی راکے سربراہ تھے۔

ہماری ملاقاتیں دو دن تک ہوئی تھیں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر)اسد درانی اپنی کتاب ’’دی سپائے کرونیکلز:را، آئی ایس آئی اینڈ دی الویژن آف پیس‘‘ جو انھوں نے سابق راچیف اے ایس دولت کے ساتھ مل کر لکھی ہے، اس میں لکھتے ہیں، ’’مجھےیقین ہےکہ کشمیر کی شورش ہماری ملاقات کا موضوع تھا کیونکہ جب میں نے اگست 1990میں آئی ایس آئی میں شمولیت اختیار کی تو یہ پہلے ہی پروان چڑھ چکی تھی۔ نام نہاد گیٹس مشن کے بعد حالات کشیدہ ہورہے تھےلہٰذا ہمارے دفتر خارجہ کے اقدام کے باعث ہم چھ ماہ بعد ملے تھے، سارا کریڈٹ انھیں جاتا ہے۔ جب آپ کسی

سے پہلی بار ملاقات کرتے ہیں تو آپ اپنا کافی وقت ان کےبارے میں اندازہ لگا نےمیں گزارتے ہیں، یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ وہ کتنا بتاناچاہتاہےاور کتنی بات کرنا چاہتاہے۔ یہ ہمیشہ دوسری ، تیسری یا چوتھی ملاقات میں ہوتاہے کہ آپ اندازہ لگا چکے ہوتے ہیں لیکن پہلی بارصرف تحقیقات ہی ہوتی ہیں۔‘‘ اس صحافی کے پاس بھی یہ کتاب دستیاب ہے۔ یہ کتاب دو سابق سپائے ماسٹرز کے درمیان لمبی چوڑی ملاقاتوں کا بیان ہےجسے بھارتی مصنف اور صحافی ادتیا سنہا نے ترتیب دیاہے۔
’’دی انٹلیجنس ڈائیلاگ‘‘ کے باب میں لیفٹیننٹ جنرل(ر) اسددرانی اس وقت کےاپنے’’را‘‘ کے ہم منصب باجپائی کے ساتھ ملاقاتوں کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہتے ہیں، ’’کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہواتھا۔ ہم ملےتھے۔ میں ایک بات کے بارے میں واضح تھا کہ وہ شخص ایک تجربہ کار انٹلیجنس اہلکار ہیں۔ وہ را کا سربراہ تھا۔ اس نے اپنی زندگی اسی کیرئیر میں لگائی تھی۔ جبکہ میز کے اسطرف ایک ایسا شخص تھا جو ابھی دائو پیچ سیکھ رہاتھا، اور میرا نہیں خیال تھا کہ کوئی ایک سال میں یا وہ مشترکہ وقت جو میں نے ایم آئی اور آئی ایس آئی میں گزارا تھا اس میں کوئی سب کچھ سیکھ سکتا ہے۔ میرے لیے بہت زیادہ محتاط ہونا ضروری تھا۔ انھوں نے مزید کہا، ’’لہٰذا میں اور باجپائی ایک بار ملے لیکن اس کی پیروی نہیں ہوئی۔ اگر دونوں ممالک بہت سوچ سمجھ رکھتے تو وہ درست طور پر اس کی پیروی بھی کرتے۔ لیکن وہ اپنے خوف کے باعث ایسانہیں کرسکے۔
ورنہ حمید گل کی اے کے ورما کے ساتھ ملاقات، میری ملاقات اور دیگر دو کی ملاقاتیں ہر بار اعلان کیے بغیر اداروں کی سطح پر ہوسکتی تھیں۔ لہٰذا ہر بار جب دو سربراہان ملے تو یہ نئے سرے سے شروع ہوئیں۔ ان میں کوئی تسلسل نہیں تھا۔ یہ مشرف کے چارنکات کے بعد نہیں ہوئیں، آپ وہاں سے شروع کریں۔‘‘ اس موقع پر اسددرانی، اے ایس دولت اور ادتیا سنہا کے درمیان ہونے والی بحث یہ تھی:۔ دولت: کیونکہ یہ اداورں کی سطح پر نہیں تھیں۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ انٹلیجنس سربراہان کافی بڑے ہیں تو اسے کچھ نچلی سطح پر لے جائیں یا درمیانی
سطح پر لے جائیں۔ لیکن ملاقاتیں ہونے دیں۔ اگر یہ اداروں کی سطح پر ہوں گے تو کچھ نہ کچھ نتیجہ نکلے گا۔ درانی: کسی بھی صورت میں اگرکوئی ریاستی امورجانتاہےتواسےپتہ ہوگا کہ اگر را چیف اور آئی ایس آئی چیف کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ ہوکر رہے گا۔ پوری اسٹیبلشمنٹ کو شامل کرنا پڑتاہے۔ دولت: میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں، میں یہ کہتا ہوں کہ برائے مہربانی آئی ایس آئی چیف اور را چیف کو ایک موقع تو دیں۔ ایک شفاف موقع جس میں انھیں یقین ہونا چاہیے۔ ہمارے لیے یقین کرنا آسان ہے کیونکہ ہم اب اس سے باہر ہیں۔ لیکن اگرآپ کے پاس ایک آئی ایس آئی چیف اور ایک را چیف ہے جنھیں یقین ہے کہ کام ہوگاحتیٰ کہ چھوٹا کام بھی ہوگا۔ درانی: ایک چھوٹی سی وجہ کے باعث ایسا موقع نہیں دیا جاسکتا کہ جب میں اپنے ہم منصب سے ملا تو میں انھیں نہیں جانتا تھا اور میرانہیں خیال کہ وہ بھی مجھے اچھی طرح جانتے تھے۔
ہمارا نتیجہ یہ تھا کہ ہم اس پر قائم رہیں گے۔ لیکن انھیں اجازت نہیں ملی۔ میرے کیس میں محض اتنا کہہ سکتے تھے، ہاں بھائی کرتے رہے۔ اور پھرایک شدید خاموشی تھی۔ دولت: اب ایسا لگتا ہے کہ کوئی ملاقات ہوئی ہی نہیں، کبھی بھی نہیں۔ درانی: کیا آپ کو یقین ہے کہ اب کوئی ملاقات نہیں ہورہی؟ سنہا: کیا موجودہ را اور آئی ایس آئی سربراہان ملاقات کرتے ہیں؟ دولت: کون جانتاہے؟ ہمیں جاننا بھی نہیں چاہیے۔ درانی: یہ درست جواب ہے۔ اگر وہ حقیقت میں سنجیدگی سے مل رہے ہیں، تو ہمیں علم نہیں ہونا چاہیے۔ دولت: میں یقیناً نہیں جانتا۔ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ آخری بار کب ملے تھے۔ جنرل صاحب مل چکے ہیں احسان صاحب مل چکے ہیں۔ سنہا: آپ جنرل محمود سے نہیں ملے؟ دولت: نہیں، میں نہیں ملا۔ درانی: جب میں باجپائی سے ملاتھا تو صرف ہمارے پانچ یا چھ لوگوں کو پتہ تھا۔ اور کئی سال تک میں اس سے انکار کرتارہا۔
رحمان نے اس کے بارے میں اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ پھر ایک وقت آیا جب میں یہ کہنے کا فیصلہ کیا کہ ہاں میں را چیف سے ملاتھا۔ دولت: یہ ایسا کام تھا جو میں ہمیشہ کرنا چاہتاتھا۔ پاکستانی دوستوں نے مدد کی اور میں واحد را چیف ہوں جو پاکستان گیا، ایک بار نہیں بلکہ چار بار گیا تھا۔ میں پاکستانی ٹی وی پر بھی گیاتھا۔ ہمارے دوست اعجاز حیدر مجھے ٹی وی پر لائے تھے اور بعد میں میرے ساتھ چائے پی تھی۔ انھوں نے کہا: آپ کا شکریہ ، میرے لیے یہ بہت بڑی بات ہے کیونکہ پاکستان میں کبھی کسی نے راچیف کو ٹی وی پر نہیں لیا۔ درانی: کوئی جو جانتا تھا کہ میں کبھی ٹی وی نہیں دیکھتا تھا اس نے مجھے فون کیا اور کہا ’جلدی کروجلدی کرو، ٹی وی لگائو،‘ اور دولت صاحب وہاں تھے۔ میں نے انھیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہاں، بے شک پاکستان میں میرا ایک دوست ہے، اور انھوں نے میرانام لے لیا۔
سنہا: اپنی کتاب میں آپ نے کہاتھاکہ اپنے اثررسوخ کے باعث بہترین انٹلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی ہے۔ دولت: میں اس پر قائم ہوں۔ جنرل صاحب را کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مہربان تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مخالف کے بارے میں جو کچھ ہم سوچتے ہیں وہ ہمیشہ درست نہیں ہوتا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کتنی ہی کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ جب میں نے اور انھوں نے بات کی تو اگر ہم ایماندار ہیں تو ہم حقائق پر بات کررہے ہیں۔ ورنہ یہ صرف اندازہ ہے، اور باقی سب کچھ افواہ ہے