مقبوضہ کشمیر: فوج کا میجر کمسن لڑکی کے ساتھ رنگے ہاتھوں گرفتار

مقبوضہ کشمیر میں اپنی جیپ کے آگے ایک کشمیری کو باندھ کے پورا شہر گھمانے والے میجر گوگی ایک کمسن کشمیری لڑکی کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے گیے

تفصیلات کے مطابق انڈین فوج کے میجر گوگی سرینگر کے ہوٹل ”گرینڈ ممتا” میں ایک کشمیری لڑکی کے ساتھ پہنچے اور سیدھے بکنگ کاؤنٹر پر اپنے کمرے کی چابی لینے کے لیے گیے. کمرہ انہوں نے پہلے ہی انٹرنیٹ پر بک کر رکھا تھا. دو مہمان ایک رات

بکنگ کے افسر نے میجر گوگی کو چیک ان فارم بھرنے کے لیے دیا. جب ہوٹل افسر نے ان کے شناختی کارڈ دیکھ تو پتا چلا کہ لڑکی لوکل کشمیری ہے. جس پر ہوٹل افسر نے انھیں کمرہ دینے سے صاف انکار کر دیا

جب ہوٹل منیجر سے پوچھا گیا کہ کمرہ دینے سے کیوں انکار کیا گیا تو ہوٹل کے منیجر نے بتایا کہ ایک سولہ، سترہ سال کی لوکل لڑکی کے ساتھ ایک چالیس سال کا مرد ایک رات کے لیے ٹھہرنا چاہتا ہے، میں محسوس کر سکتا ہوں کہ اس میں کچھ خرابی ہے، اسی لیے میں نے کمرہ دینے سے انکار کیا

کمرہ نہ ملنے پر میجر گوگی آپے سے باہر ہو گیے اور غصے میں لڑکی کے ساتھ ہوٹل سے جانے لگے لیکن جاتے ہوے انہوں نے ہوٹل منیجر کو گالیاں دینا شروع کر دیں جس کے جواب میں ہوٹل منیجر نے بھی گالیاں دیں جو کہ بعد میں لڑائی کی شکل اختیار کر گئی

نزدیک کے دکانداروں کے مطابق پولیس میں دینے سے پہلے ہوٹل کے ملازمین نے میجر گوگی کے دھلائی کی

اسی اثنا میں میجر گوگی نے کسی کو فون کیا جو کہ فوری طور پر موقع واردات پر اپنی الٹو کار میں پہنچ گیا

میجر گوگی کا یہ مدد گار سمیر احمد مالا تھا جو کہ انڈیا فوج میں میجر گوگی کی یونٹ میں ہی ملازم ہے

موقع کے گواہ کے مطابق میجر گوگی کا یہ دوست سمیر احمد گاڑی سے باہر آ کر ہوٹل والوں کو گالیاں دینے لگا. جس پر موقع پر موجود لوگ غصے میں آ گیے اور سمیر احمد کی مکوں سے خاطر داری کی

میجر گوگی کو جب احساس ہوا کہ وہ خطرے میں ہے تو اس کے ہوٹل کے منیجر سے کہا کہ وہ اسے جانے دے لیکن ہوٹل کے منیجر نے کہا کہ وہ اس وقت تک نہیں جا سکتا جب تک پولیس نہ آ جاۓ

منیجر نے پولیس کے آنے پر ان دونوں کو پولیس کے حوالے کر دیا

پولیس نے موقع پر پہنچ کر میجر گوگی اور سمیر کو حراست میں لے کر خان یار پولیس سٹیشن لے گئی

پولیس نے ان دونوں کے بیانات لینے کے بعد ان کو واپس فوج کے متعلقہ یونٹوں کو سونپ دیا، پولیس نے لڑکی سے پوچھ گچھ کی

اس واقعہ میں جہاں ایک طرف انڈیا میں فوج قانون کے کٹہرے میں نظر آتی ہے تو وہیں

دوسری طرف یاد آتا ہے بلوچستان میں پاکستان فوج کا میجر، جس نے ایک ڈاکٹر کی عزت لوٹ لی اور اس ایک میجر کی حفاظت کے لیے پاک فوج نے بلوچستان کی اینٹ سے اینٹ بجاتے ہوے نواب اکبر بگھٹی کا قتل کر دیا