مفت خورے کو دو سال بعد اسمبلی کی یاد: لمبی تقریریں

یورپ کی مثالیں دینے والے پاکستانی سیاستداں کو آخر کار اسمبلی کی یاد آ ہی گئی. لیکن قول اور فعل میں ایسا تضاد کہ باتیں لمبی لمبی اور اسمبلی سے تنخواہ مفت کی

 پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے فخر ہے کہ ہم کامیاب ہوئے اور ایک کرپٹ وزیرا‏عظم منی لانڈرنگ پر مجرم ٹھہرایا گیا۔

قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات بل منظور ہونے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں نے اور میری پارٹی نے جو بھی موقف اپنایا، ہمارا بنیادی کام عوامی مفادات کا تحفظ کرنا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ22 جماعتوں نے سپریم کورٹ میں کہا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ، کیا ہمارا مطالبہ غلط تھا کہ 413 درخواستوں میں سے صرف چار کو چیک کرلیا جائے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ ، اور الیکشن کمیشن سے رسپانس نہيں ملا تو ایک سال بعد دھرنا دیا ۔

انہوں نے پاناما لیکس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے وزیراعظم کا نام پاناما پیپر میں آیا، یہ پوچھناکہ آپ کا پیسا کہاں سے آیا اور کیسے باہر گیا ، اس میں کیا غلط تھا؟

عمران خان کی تقریر کے دوران حکومتی بینچوں پر موجود اراکین نے شدیدشور شرابہ کیا اور “امپائر کی انگلی اٹھنے”کا ذکر بھی کیا۔

اس پر عمران خان نے کہا کہ ہمارا امپائر اللہ ہے، ہم صرف اللہ کو امپائر مانتےہيں ۔

فاٹا کے خیبرپختون خواسے انضمام کے لیے اکتسویں آئینی ترمیم کا بل منظور ہونے پر عمران خان نے کہا کہ آج یہ فیصلہ نہ کرتے تو قبائلی علاقے میں جو خلا تھا ، باہر سے لوگ پھر سے انتشار پھیلا سکتے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ خطرہ یہ تھا کہ بیرونی ایکٹرز اسے استعمال کرکے ملک میں دہشت گردی نہ کرنے لگ جائيں ، قبائلی علاقے کے لوگ پاکستانی ہوتے ہوئےبھی انہیں کوئی تسلیم نہیں کرتا تھا ۔

تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ ایوان کو خبردار کرنا چاہتاہوں، اس میں خطرات ہیں کوئی اسے آسان کام نہ سمجھے ، قبائلی عوام سستا اور فوری انصاف چاہتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ انضمام کے مخالفین کمزوریاں اچھاليں گے ، قبا‏ئلی علاقے کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ ناقابل عمل ہے