چیرمین نیب کا جھوٹا الزام: اجلاس پھر ملتوی کیوں ہوا؟

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا آج ہونے والا اجلاس کمیٹی چیئرمین چوہدری محمد اشرف کو ہارٹ اٹیک کے باعث منسوخ کردیا گیا۔

قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اِن کیمرا اجلاس آج دوپہر 2 بجے ہونا تھا، جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف پر 4 ارب 90 کروڑ ڈالر کی رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت رقم منتقلی کے الزام کی وضاحت کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چئیرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا۔

اس سے قبل 16 مئی کو طلبی کے باوجود چیئرمین نیب قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے اور مصروفیات کی بنا پر معذرت کرتے ہوئے پیشی کے لیے مناسب وقت مانگا تھا، جسے کمیٹی نے قبول کرتے ہوئے انہیں 22 مئی کو دوبارہ طلب کیا تھا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے آج (22 مئی) کے اجلاس میں اپنی شرکت کی یقین دہانی کروائی تھی، تاہم اجلاس منسوخ کردیا گیا۔

نیب کا نواز شریف کو نوٹس

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے 8 مئی کو سابق وزیراعظم نواز شریف اور دیگر کے خلاف مبینہ طور پر 4.9 ارب ڈالر بھارت بھیجنے کی میڈیا رپورٹ پر نوٹس لے کر جانچ پڑتال کا حکم دیا تھا۔

نیب کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ‘یہ رقم مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت بھجوائی گئی تھی’۔

اعلامیے کے مطابق ‘بھارتی حکومت کے سرکاری خزانے میں 4.9 ارب ڈالر کی خطیر رقم بھجوائی گئی، جس سے بھارتی حکومت کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے اور اس اقدام سے پاکستان کو نقصان ہوا’۔

مزید کہا گیا کہ ‘میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ بات ورلڈ بینک مائیگریشن اینڈ ریمیٹنس بک 2016 میں موجود ہے’۔

نیب کے نوٹس پر عالمی بینک کی وضاحت

تاہم نیب کے اس نوٹس کے بعد عالمی بینک نے ترسیلات، امیگریشن رپورٹ اور منی لانڈرنگ الزامات پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی بینک کی ترسیلات اور امیگریشن رپورٹ 2016 سے متعلق خبریں غلط ہیں۔

عالمی ادارے نے کہا کہ ورلڈ بینک کی ترسیلات اور امیگریشن رپورٹ کا مقصد دنیا بھر میں امیگریشن اور ترسیلات کا تخمینہ لگانا ہے، رپورٹ میں منی لانڈرنگ یا کسی کے بھی نام کا ذکر نہیں ہے۔

ادارے کے مطابق رپورٹ میں عالمی بینک نے دو ممالک کے درمیان میں ترسیلات کا تخمینہ لگانے کے لیے ورکنگ پیپر کی میتھاڈولوجی کا استعمال کیا تھا۔

ورلڈ بینک کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بھی 4 اعشاریہ 9 ارب ڈالر کی ترسیلات کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے، یہ بھی واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے بھی 21 ستمبر 2016 کو 4 اعشاریہ 9 ارب ڈالر کی ترسیلات کی تردید کردی تھی