جنرل باجوہ کو دلی بلائیے: کیا جنرل باجوہ غدار بنیں گے؟

پاکستان جیسے ملک میں جہاں انڈیا سے تعلقات کی بحالی کے خواہش مند سیاستدانوں کو غدار کہا جاتا ہے وہیں پاکستان پر پنتیس سال تک براہ راست اور پنتیس سال سے کٹھ پتلیوں کے ذریئے قابض فوج کے کارندے جنرل اسد درانی نے انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ مل کر ایک کتاب تحریر کی ہے

انڈیا اور پاکستان کے منجمد رشتوں کے درمیان انڈیا کے خفیہ ادارے ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جمود توڑنے کے لیے انڈیا کو پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو دلی آنے کی دعوت دینی چاہيے۔

اے ایس دولت نے یہ بات انڈیا کے ایک سرکردہ ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی پر ایک بات چیت کے دوران کہی۔

جب ان سے پو چھا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی خراب ہیں، رشتے منجمد ہیں اور امن کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ان حالات میں کیا کیا جانا چاہیے؟ تو دولت نے جواب دیا کہ کچھ عرصے پہلے ٹریک ٹو کی ایک میٹنگ میں یہ صلاح دی گئی تھی کہ انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر کو لاہور بلایا جائے۔ لیکن پاکستان میں کسی نے اس مشورے کو اہمیت نہیں دی۔ کسی نے بصیرت نہیں دکھائی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں بہت پر امید ہوں، وقت بہت بدل چکاہے۔ دونوں کوریا ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں۔ کسی نے سوچا تھا کہ صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات ہوگی؟ ہمیں بھی بڑا سوچنا چاہیے۔ ریڈ کارپٹ بچھائیے۔ جنرل باجوہ کو دلی آنے کی دعوت دیجیے۔ پھر دیکھے کیا ہوتا ہے۔’

کتابتصویر کے کاپی رائٹHARPERCOLINS

ٹی وی پر اس بات چیت میں پاکستان کی خفیہ سروس کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی بھی سکائپ کے ذریعے شامل تھے۔

دولت اور جنرل درانی نے انڈیا اور پاکستان کی صورتحال کے پس منظر میں مشترکہ طور پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ‘سپائی کرونکل: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الیوژن آف پیس’ ہے۔

دونوں سابقہ جاسوسوں نے کتاب کا بیشتر حصہ دبئی، استنبول اور کٹھمنڈو میں لکھا ہے۔ یہ کتاب باضاطہ طور پر اسی ہفتے ریلیز ہونی تھی لیکن جنرل درانی ویزا نہ ملنے کے سبب ابھی تک دلی نہیں آ سکے ہیں۔

اے ایس دولت کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ ایک مشترکہ کتاب لکھتے ہیں یہی ایک غیر معمولی بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ امن مشکل ضرور ہے لیکن اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر کرنے کے لیے پروازیں بڑھائی جانی چاہییں اور ‘دونوں ملکوں کو کرکٹ کے روابط فوری طور پر بحال کرنے چاہییں۔’