طلال چودھری اور پی سی او ججوں کا ٹاکرا

سپریم کورٹ میں طلال چودھری توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی _ طلال چودھری کا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت قلمبند کر لیا گیا

طلال چوھدری نے توہین عدالت کیس میں بیان قلمبند کراتے ہوئے عدالتی سوالوں کے جواب دیے

کیا عدالت میں پی سی او بت بیٹھنے کی بات آپ کی ہے، طلال چوہدری سے عدالت کا سوال

لیکن اس کو پورا پڑھا جائے، طلال چوہدری

مزید خبریں

پاکستان نے آرمی چیف کو کون سے علاقائی تعاون پر بات کرنے کے لیے بھیجا؟

ایم آئی، آئی ایس آئی کا جے آئی ٹی کا حصہ بننا نامناسب تھا

چیف جسٹس ثاقب نثار روس میں لاپتہ

آپ کی بات کی ٹون اور الفاظ عدلیہ کے مخالف تھے، جسٹس گلزار کا سوال

یہ الفاظ توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں، عدالت

میں نے کوئی توہین عدالت نہیں کی، طلال چوہدری

میں عدالت کی عزت کرتا ہوں، طلال چوہدری

آپ عزت کرتے ہیں تو دیکھ لیں گے، جسٹس گلزار

کیا آپ 342کا بیان حلفا دیں گے، جسٹس گلزار

اس پر مشورہ کرنے کی ضرورت ہے، طلال چوہدری

مشورہ کیا کرنا ہے ابھی جواب دیں آپ 342کا بیان ریکارڈ کرا رہے، جسٹس گلزار

ہاں اور نہ میں جواب دینا ہے، جسٹس گلزار

کیا درست ہے کہ یہ تقاریر عوامی اجتماعات سے تھیں۔عدالت کا سوال
24 مئی کی تقریر نہیں تھی پریس ٹاک تھی۔طلال چوہدری

پریس ٹاک کو ایڈیٹ کر کے میرے بہت سے جملے بدنیتی سے نکال دیے گئے۔طلال چوہدری

میری تقریر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی۔طلال چوہدری

27 جنوری کی تقریر کسی جج کے لیے نہیں تھی۔طلال چوہدری

کیا دکھائی گئی ویڈیو کلپ آپ کی ہے۔عدالت کا سوال

مکمل ویڈیو میری نہیں اس کو کاٹا گیا۔طلال چوہدری

کیا بابا رحمت سے متعلق جملے آپ کے تھے۔عدالت کا سوال

بہت سے جملے کاٹے گئے اور جوڑے گئے۔طلال چوہدری

میں نے یہ بھی کہا بابا رحمت کی ہم عزت کرتے ہیں، خاص حالات سے ہم دوچار ہیں، طلال چوہدری

یہ آپکا بیان ہے جماعت کا بیان نہیں، جسٹس گلزار

عام باتیں کرنے نہیں دیں گے، جسٹس گلزار

یہ عدالتی کارروائی ہے تقریر کی اجازت نہیں دے سکتے، جسٹس گلزار
میری ٹاک کے ٹکرے ٹکرے جوڑے گئیے، طلال چوہدری

توہین عدالت اور توہین رسالت کے الزامات بھی ہماری جماعت کے افراد پر لگے، طلال چوہدری

ساری دنیا کی کہانی تو ہم ریکارڈ نہیں کریں گے، جسٹس گلزار

پہلے بھی استدعا کی ہے کہ نوٹس خارج کیا جائے، طلال چوہدری نے کہا کہ میری نیت پر شک نہ کیا جائے، اس سے قبل ہزاروں تقاریر کیں، کبھی کسی ادارے نے میری تقاریر پر قانونی نوٹس تک نہیں بھیجا