بحریہ ٹاؤن میں کھربوں کا فراڈ، نیب بےبس

پاکستان کے قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے ملک کے سب سے بڑے پراپرٹی ڈیلر بحریہ ٹاؤن کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

سپریم کورٹ نے چار مئی کو فیصلہ دیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں منصوبوں کے لیے زمین غیر قانونی طور پر الاٹ اور ٹرانسفر کی گئی چنانچہ انھیں کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ہدایت کی ہے کہ عدالتی حکم کی روشنی میں تین ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کی جائیں۔

اسلام آباد کے تحقیقاتی صحافی زاہد گشکوری کا کہنا ہے کہ یہ ہزاروں ایکڑ اور کھربوں روپے کا معاملہ ہے۔ سندھ حکومت نے بحریہ ٹاؤن کو گیارہ ہزار کنال زمین مختلف مقامات پر سستے داموں فراہم کی اور پھر اسے کراچی میں ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے زیر انتظام علاقے میں ٹرانسفر کردیا۔ اس زمین کی مارکیٹ ویلیو پچپن ارب روپے ہے۔

لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد کی ڈویلپمنٹ اتھارٹیز بھی اس میں ملوث ہیں۔ راولپنڈی میں ہزاروں نہیں لاکھوں کنال زمین ہے جو اسلام آباد سے مری تک پھیلی ہوئی ہے اور اسے صاف کرنے کے لیے بے شمار درخت کاٹے گئے۔ چنانچہ ادارہ تحفظ ماحولیات بھی لپیٹ میں آئے گا۔

زاہد گشکوری کو شبہ ہے کہ یہ تحقیقات تین ماہ میں مکمل نہیں ہوسکے گی اور بظاہر نیب میں اس قدر صلاحیت بھی نہیں۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل علی ظفر نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی اپیل داخل کرچکے ہیں۔ جب تک اس کا فیصلہ نہیں ہوجاتا، نیب کو انتظار کرنا چاہیے تھا۔ اس کے اقدام کو بھی عدالت میں چیلنج کریں گے۔

علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کے سامنے یہ صورتحال رکھی ہے کہ اس کی زمین جہاں بھی ہے، وہ واپس لے اور جہاں پروجیکٹس بن گئے ہیں، اس زمین کی قیمت نئے معاہدے کرکے ادا کرے۔ لیکن فرض کریں کہ نئی قیمت پر سودا نہیں ہوپاتا۔ تو پھر کیا ہوگا؟ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ ان پروجیکٹس سے لاتعلق ہوجائے گی تو ہزاروں شہریوں کو نقصان ہوگا۔ ان پروجیکٹس میں بے شمار لوگ گھر بناچکے ہیں اور انھوں نے رہائش اختیار کرلی ہے۔ سپریم کورٹ کو فیصلہ دیتے ہوئے اس بارے میں بھی غور کرنا چاہیے تھا۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دسیوں ہزار لوگوں نے بحریہ ٹاؤن میں اربوں کھربوں روپے لگائے ہوئے ہیں جن میں سمندر پار پاکستانی بھی شامل ہیں۔ لیکن بعض لوگ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ بحریہ ٹاؤن نے جتنے پلاٹوں کی فائلیں فرخت کردی ہیں، اتنی زمین اس کے پاس کبھی نہیں تھی۔

اس معاملے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ عوامی دلچسپی کا معاملہ ہونے کے باوجود پاکستان کے میں اسٹریم میڈیا سے یہ خبر غائب ہے۔ صحافتی ذرائع کہتے ہیں کہ جب بحریہ ٹاؤن کے بارے میں کوئی منفی خبر جنم لیتی ہے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس کے اشتہارات بڑھ جاتے ہیں اور خبر کہیں کھو جاتی ہے۔

پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک ڈیلرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف تحقیقات کی وجہ سے زمین کی قیمتیں گر سکتی ہیں اور سرمایہ کاری کرنے والوں کو بھاری نقصان ہوسکتا ہے