اے ایف ڈی نے میرکل کی ’اوپن ڈور پاليسی‘ پر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کر لیا

جرمنی میں مہاجرت اور اسلام مخالف سیاسی پارٹی اے ایف ڈی نے چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین کے لیے ’اوپن ڈور پالیسی‘ کو غیر آئينی قرار دیتے ہوئے ملک کی اعلیٰ عدالت سے رجوع کر لیا ہے

جرمنی میں مہاجرت اور اسلام مخالف سیاسی پارٹی اے ایف ڈی نے چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین کے لیے ’اوپن ڈور پالیسی‘ کو غیر آئينی قرار دیتے ہوئے ملک کی اعلیٰ عدالت سے رجوع کر لیا ہے

سن دو ہزار پندرہ میں جب مہاجرین کا بحران اپنے عروج پر تھا تو جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے شورش اور جنگ زدہ ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے ملک کی سرحدیں کھول دی تھیں۔ یوں شام، افغانستان اور دیگر کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد جرمنی داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

بڑی تعداد میں ان مہاجرین کی جرمنی آمد کی وجہ سے ملکی سیاسی منظر نامے میں بھی تبدیلی آ چکی ہے۔ اس بحران کے سبب انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت ’متبادل برائے جرمنی‘ (اے ایف ڈی) گزشتہ برس کے عام انتخابات میں عوامی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی اور پہلی مرتبہ پارلیمان میں جگہ بنانے میں بھی۔

اے ایف ڈی کے قانونی مشیر اشٹیفان برانڈر نے بتایا ہے کہ دراصل میرکل کے اس فیصلے کے خلاف چودہ اپریل کو عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی لیکن اس کا اعلان جمعے کے دن کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر اس کیس میں انہیں کامیابی مل گئی تو اس سے دنیا تبدیل ہو جائے گی‘۔

برانڈر نے مزید کہا کہ اگرعدالت نے اے ایف ڈی کے حق میں فیصلہ سنایا تو انگیلا میرکل کو فوری طور پر چانسلر کے عہدے سے مستعفیٰ ہو جانا پڑے گا۔ ابھی عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ آیا اس کیس پر قانونی کارروائی کی جائے یا نہیں۔

اے ایف ڈی کے پارلیمانی رہنما ژورگن براؤن نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’جرمنی میں کوئی آمر رہنما نہيں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملکی سرحدیں کھول دینے جیسے اہم فیصلوں سے قبل چانسلر کو ملکی پارلیمان سے مشاورت ضرور کرنا چاہیے تھی۔ براؤن نے سن دو ہزار پندرہ میں لیے گئے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے اس فیصلے کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔