سنسر گردی: بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

پاکستان میں میڈیا پر سنسر گردی کے خلاف سوشل میڈیا پر مختلف صحافی آواز اٹھا رہے ہیں

ٹویٹر پر ہیش ٹیگ #بول_کہ_لب_آزادہیں_تیرے سب سے زیادہ ٹویٹ ہو رہا ہے

پاکستانی میڈیا کو اس وقت شدید ترین سنسر شپ کا سامنا ہے, عمار مسعود کہتے ہیں

ایوب خان کے دور میں انکے وزیر کے دفتر کے باہر نعرے لگ رہے تھے ایوب خان کا چمچہ۔ ایوب خان کا چمچہ
وزیر موصوف نے سیکرٹری سے پوچھا یہ کیا شور ہے؟
چاپلوس سیکرٹری نے کمال ہوشیاری سے جواب دیا سر کچھ لوگ کٹلری کے بارے میں بات کر رہے ہیں

عمر چیمہ نے لکھا کہ

ایوبی مارشل لاء کے دوران اخبارات پر بڑا کڑا سنسر بھی قائم ہو گیا۔ ایک روز معروف ناول نگار قرۃ العین حیدر (سیکرٹری اطلاعات) قدرت اللہ شہاب کو بولیں ”ارے بھئی، روز روز کون بھونکنا چاہتا ہے۔ لیکن بھونکنے کی آزادی کا احساس بھی تو ایک عجیب نعمت ہے”

اب میں بولوں کہ نہ بولوں؟ کاش کوئی کہے

 وجیہ ثانی کے لکھا کہ پاکستانی میڈیا سخت ترین سنسر شپ کا شکار بولتے کیوں نہیں میرے حق میں آبلے پڑگئے زبان میں کیا؟؟؟ جون ایلیا

 خرم مشتاق کے مطابق کیا دنیا میں کسی بھی ملک کی خفیہ ایجنسی جیسا کہ سی آئی اے , ایف بی آئی, را , نوشاد, این ڈی ایس وغیرہ کا ریٹائرڈ ہیڈ کسی دوسرے ملک میں جاکر ملازمت کرسکتا ہے. نہیں تو پھر ہمارے ایسا کیوں کرتے ہیں اور انہیں کون اجازت دیتا ہے.

اعزاز سید کے مطابق ایک زمانہ تھا جب میڈیا حقوق کی آواز ببانگ دہل اٹھاتا تھا اب میڈیا پر پابندیوں کے خلاف آواز سوشل میڈیا اٹھا رہا ہے۔