”نامعلوم افراد” پاکستانیوں کو تیزی سے اغوا کر رہے ہیں

پاکستان میں نامعلوم افراد کی طرف سے شہریوں کے اغوا کے وارداتیں دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں

ان میں سے زیادہ تر افراد کی لاشیں بعد میں کچھ حصوں میں تقسیم کسی گندے نالے سے ملتی ہیں مگر گنتی کے چند افراد خفیہ ایجنسیوں کے حراست میں بھی ملے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو پاکستان کی عدالتوں نے واگزار کروایا ہے

اغوا کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے

جس میں ایک باپ نے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے استدعا کی ہے

ایک باپ کی فریاد!

18 سال کا جوان بیٹا سید حیدر رضوی گزشتہ 3 سال سے جبری گمشدہ ہے!
کون دلاۓ گا 18 سال کا بیٹا واپس؟ اس ملک میں ہے کوٸ انصاف یا جنگل کا قانون ہے؟
خاموش کیوں ہو؟
بولتے کیوں نہیں ہو؟
ساتھ کیوں نہیں دیتے؟
مر جاٸیں گے تو کیا انصاف کرو گے؟

یہ الفاظ ہیں ایک دکھی باپ کے، جس کا جوان سال بیٹے کو ”نامعلوم ” افراد اٹھا کر لے گیے ہیں

ان نامعلوم افراد کے بارے میں معلوم تو سب کو ہے مگر سب جھوٹ کا لبادہ اوڑھ کر اپنی جانے بچانے کے چکر میں ہیں