شمالی وزیرستان معاہدہ: ٹارگٹ کلنگ روکنے اور خاصہ داروں کو اسلحہ فرہم کرنے پر اتفاق

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں جاری دھرنے کے حوالے سے پولیٹکل انتظامیہ اور مقامی مظاہرین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے جس میں انتظامیہ نے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اس معاہدے میں پولیٹکل انتظامیہ نے پانچ اہم مطالبات پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر پولیٹکل ایجنٹ شمالی وزیرستان اور مظاہرین کے نمائندوں نے دستخط کیے ہیں۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق یہ دھرنا علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات اور مقامی لوگوں کی اپنے علاقوں میں واپسی کے بعد درپیش مسائل کے خلاف کیا گیا تھا جو چھ روز تک جاری رہا۔

ٹارگٹ کلنگ

علاقے میں ہدف بنا کر قتل کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیٹکل انتظامیہ اور پاکستان فوج کے اہلکار ہر گاؤں کی سطح پر مشترکہ گشت کریں گے۔ اس کے علاوہ داخلی اور خارجی راستوں پر مشترکہ اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

دھرنا دینے والے مظاہرین کے مطابق شمالی وزیرستان میں ایک ماہ کے دوران دس افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جس میں سابق رکن قومی اسمبلی کے بیٹے کو بھی قتل کیا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان
Image captionاس معاہدے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ خاصہ داروں کو اسلحہ فراہم کرنے کے لیے کور ہیڈ کوارٹر کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا

سکیورٹی

پولیٹیکل انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان معاہدے کے مطابق ماہ رمضان میں سحری، افطاری اور تراویح کے دوران سخت سکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے۔

ٹارگٹ کلنگ کے بیشتر واقعات رات کے اوقات میں گیے گئے اور ان میں مسلح حملہ آوروں نے گھروں کے اندر داخل ہو کر لوگوں کو قتل کیا ہے۔

اسلحہ برائے خاصہ دار

اس معاہدے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ہر گاؤں کی سطح پر خاصہ داروں کو اسلحہ فراہم کرنے کے لیے کور ہیڈ کوارٹر کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا تاکہ عوام اور علاقے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد متاثرین کی واپسی کے لیے تمام لوگوں کو غیر مسلح کر دیا گیا تھا۔ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات کے بعد دھرنے میں مظاہرین نے کہا تھا کہ عوام کو غیر مسلح کر دیا گیا ہے تو یہ مسلح افراد جو ٹارگٹ کلنگ کے بعد فرار ہو جاتے ہیں یہ کہاں سے آئے ہیں۔ اس علاقے میں تعینات مقامی پولیس جسے خاصہ دار کہا جاتا ہے ان کے پاس بھی اسلحہ نہیں ہے تو وہ لوگوں کا تحفظ کیسے کر پائیں گے؟

شمالی وزیرستانتصویر کے کاپی رائٹHANIF KHAN
Image captionمعاہدے میں یہ کہا گیا ہے کہ آئندہ جرگوں میں یوتھ آف وزیرستان کے نمائندوں کو بھی شریک کیا جائے گا

تباہ شدہ مکانات کا معاوضہ

اس معاہدے کی رو سے مکانات کے معاوضے کے لیے جی او سی نے بذات خود وزیر اعظم، وزارت سیفران اور فاٹا سیکریٹیریٹ کے حکام سے رابطہ کیا ہے اور انھوں نے جلد از جلد حل کی یقین دہانی کرائی ہے۔

شمالی وزیرستان میں شدت پسندی اور فوجی آپریشنز کے دوران متعدد مکانات جزوی اور مکمل تباہ ہوئے ہیں جن کی مرمت اور تعمیر کے لیے حکومت نے تمام متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا۔

یہ معاوضہ ایک لاکھ سے چار لاکھ روپے تک طے کیا گیا تھا جس پر مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اتنی کم رقم سے مکان کیسے تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ رقم بھی بیشتر افراد کو نہیں ملی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کی امداد کے لیے جو 32 ارب روپے منظور ہوئے تھے اس میں سے صرف 30 فیصد لوگوں پر خرچ کیا گیا ہے باقی کے حساب کتاب کا مطالبہ کیا گیا ہے تاہم اس معاہدے میں اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

نمائندگی

اس معاہدے میں یہ کہا گیا ہے کہ آئندہ جرگوں میں ’یوتھ آف وزیرستان‘ کے نمائندوں کو بھی شریک کیا جائے گا۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ اکثر قومی سطح کے جرگوں میں قبائلی رہنما اور ملک تو شامل ہوتے ہیں لیکن ان جرگوں میں جوانوں کو شریک نہیں کیا جاتا اس لیے آئندہ جرگوں میں جوانوں کو بھی جرگوں میں نمائندگی دی جائے گی