بیلجیم میں دو سالہ مہاجر بچی کو پولیس نے مار دیا

بیلجیم میں ایک دو سالہ مہاجر بچی اُس وقت دم توڑ گئی، جب اسے ایک وین میں ہسپتال لے جایا جا رہا تھا اور پولیس نے اس وین کا تعاقب شروع کر دیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس وین میں مجموعی طور پر تیس غیرقانونی مہاجرین موجود تھے

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات 17 مئی کو بیلجیم کی پولیس نے ایک مشتبہ وین کو روکنے کی کوشش کی تو ڈرائیور نے فرار ہونے کے لیے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ تاہم پولیس نے 70 کلو میٹر کے طویل تعاقب کے بعد اس وین کو روک ہی لیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے جب مغربی شہر مونز میں اس وین کو روکا تو معلوم ہوا کہ اس وین میں موجود ایک دو سالہ بچی دم توڑ چکی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس بچی کو ہسپتال لے جانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

حکام نے کہا ہے کہ اس بچی کی ہلاکت کے ذمہ دار پولیس اہلکار نہیں ہیں کیونکہ یہ بچی پولیس کی فائرنگ کا نشانہ نہیں بنی۔ بتایا گیا ہے کہ جب اس وین کے ڈرائیور نے پولیس کی وارننگ کے باوجود گاڑی نہیں روکی تھی تو سکیورٹی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا تھا۔

بیلجیم کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بیلگا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ’بچی کی ہلاکت پولیس کی فائرنگ کے باعث نہیں ہوئی ہے‘۔ مزید حقائق جاننے کے لیے چھان بین کا سلسلہ شروع کیا جا چکا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس مشتبہ وین کے تعاقب کے لیے پولیس کی پندرہ گاڑیوں فعال ہو گئی تھیں، جن میں تیس مسلح سکیورٹی اہلکار موجود تھے۔ اس وین میں تیس افراد موجود تھے، جن میں چار بچے بھی شامل تھے۔ پولیس کے مطابق بچی کی ہلاکت کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس وین میں موجود مہاجرین کا تعلق افغانستان، ایران اور کویت سے تھا۔ ہلاک ہونے والی بچی کُرد تھی، جس کے والدین کو حال ہی میں بیلجیم سے ڈی پورٹ کر کے جرمنی جانے کا کہا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ملک بدری کے اس حکم نامے کے باوجود یہ کنبہ بیلجیم سے برطانیہ جانے کی کوشش میں تھا۔