پی ٹی آئی کی باغی ایم این اے مسرت احمد زیب مسلم لیگ (ن) میں شامل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی باغی رکن قومی اسمبلی مسرت احمد زیب نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی۔

مسرت احمد زیب نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کیا۔

مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کے اعلان کے بعد مسرت احمد زیب نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ بھی دے دیا اور مسرت احمد زیب نے اپنا تحریری استعفیٰ اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوادیا۔

اس موقع پر مسرت احمد زیب کا کہنا تھا کہ یکم رمضان کو مسلم لیگ (ن) میں شمولیت باعث افتخار ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والی رکن قومی اسمبلی مسرت احمد زیب کا نام اس وقت سامنے آیا تھا جب انہوں نے 22 مئی 2017 کو ایک نجی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ ملالہ یوسفزئی پر حملہ پہلے سے ‘طے شدہ’ تھا، انہوں نے کہا تھا کہ ‘ملالہ پر حملہ اسکرپٹڈ تھا’۔

واضح رہے کہ نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر 2012 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے سوات میں حملہ کیا گیا، جس کے بعد سے وہ بیرون ملک مقیم ہیں اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رکن قومی اسمبلی مسرت احمد زیب نے بعد ازاں اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا تھا کہ ‘ملالہ کو سر میں گولی ماری گئی، لیکن سوات میں ہونے والے سی ٹی اسکین کے دوران کوئی گولی نہیں پائی گئی، لیکن بعد میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) پشاور میں ان کے سر میں ایک گولی پائی گئی’۔

مسرت احمد زیب نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت نے ملالہ کی کہانی ‘گھڑنے’ والے طبی عملے کو بھی سہولیات فراہم کیں، ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کے ساتھ ملالہ کا سی ٹی اسکین کرنے والے طبی عملے کو بھی حکومت کی جانب سے پلاٹس فراہم کیے گئے۔

بعدازاں اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے انھوں نے اپنے ایک اور پیغام میں الزام عائد کیا کہ جب ملالہ نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) اردو کے لیے ‘گل مکئی’ کے نام سے ڈائری تحریر کی تو اس وقت وہ لکھنا یا پڑھنا نہیں جانتی تھیں۔

یاد رہے کہ ملالہ یوسفزئی کو اس وقت بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی جب انہوں نے ‘گل مکئی’ کے قلمی نام سے برطانوی نشریاتی ادارے کی اردو ویب سائٹ پر جنگ بیتی کو اپنے انداز میں پیش کرنا شروع کیا، بعد ازاں ملالہ یوسفزئی کو اسی ویب پوسٹس پر نہ صرف شہرت ملی بلکہ کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

جس کے بعد پی ٹی آئی کے ترجمان شفقت محمود نے واضح کیا تھا کہ پارٹی 2014 میں مسرت احمد زیب سے لاتعلقی اختیار کرچکی ہے۔

شفقت محمود نے بتایا تھا کہ 2014 کے اسلام آباد دھرنے کے دوران ارکان قومی اسمبلی مسرت احمد زیب، گلزار احمد اور سراج محمد نے پارٹی قواعد کی خلاف ورزی کی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا تھا کہ ‘پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا، لیکن ان ارکان نے پارٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس میں شرکت کی’۔