روس اور چین نے ایران سے تعلقات مزید مستحکم بنا لیے

روس اور چین نے جمعرات سترہ مئی کو ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط کو مزید وسعت دے دی۔ دوسری جانب یورپی اقوام کے لیے واشنگٹن کی طرف سے ایران پر عائد کردہ پابندیوں کو نظرانداز کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

ایران کے لیے روسی اور چینی پیشکشیں یقینی طور پر امریکا کی اُن کوششوں کے لیے دھچکا ہوں گی، جن کا مقصد ایران کو اقتصادی طور پر ایک شکنجے میں کسنا خیال کیا جا رہا ہے۔ وسطی ایشیائی ملک قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں روس کی قیادت میں قائم بلاک نے ایران کے ساتھ ایک عبوری ڈیل کو حتمی شکل دے دی اور اس کا مقصد آزاد تجارتی علاقے کے قیام کے لیے مذاکراتی عمل شروع کرنا ہے۔ اسی طرح چین نے بھی ایران کے ساتھ ایک اہم سمجھوتے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

ایرانی وزیر تیل بِژن نامدار زنگنہ نے بتایا کہ چین کی سرکاری تیل کمپنی سی این پی سی (CNPC) ایران میں اُن تمام تنصیبات کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے تیار ہے، جنہیں اس وقت فرانسیسی آئل پرڈوکشن کمپنی ٹوٹل کنٹرول کرتی ہے۔ یہ اُسی صورت میں ہو گا جب امریکی پابندیوں کے تناظر میں ٹوٹل کمپنی اپنا صنعتی پیداواری عمل ایران میں جاری رکھنے سے قاصر ہو جائے گی۔ بظاہر ابھی تک ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یورپی یونین واشنگٹن کی طرف سے ایران پر پابندیوں کے پلان کو اپنے دائرہ اثر سے باہر رکھنے کی کوشش میں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن 2015 میں طے پانے والی ایرانی جوہری ڈیل سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے

یہ صورت حال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سن 2015 میں طے پانے والی ایرانی جوہری ڈیل سے دستبرداری کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ اس ڈیل پر اُس وقت امریکا کے ساتھ ساتھ روس اور چین کے علاوہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے بھی دستخط کیے تھے۔ یہ ممالک مسلسل اس جوہری ڈیل کو محفوظ رکھنے سے متعلق بیانات تو دے رہے ہیں لیکن بتدریج صورت حال بدل رہی ہے۔

ایسے میں سترہ مئی کو دیا گیا جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا ایک بیان اہم قرار دیا گیا ہے، جس میں میرکل نے کہا ہے کہ یورپی اقوام کے مابین اس بات پر اتفاق ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ’نامکمل‘ ہے تاہم اس پر عمل درآمد جاری رہنا چاہیے۔

چین نے بھی ایران کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات بہتر بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے

روس اور چین کے تہران حکومت کے ساتھ طے پانے والے نئے سمجھوتے قزاقستان کے دارالحکومت میں یوریشین اکنامک یونین کے رکن ملکوں کے تجارتی مذاکرات کے دوران طے پائے۔ اس میٹنگ میں روس، ایران، قزاقستان، چین، بیلاروس، آرمینیا اور کرغزستان کے اعلیٰ سطحی وفود شریک تھے۔ یہ ممالک ایران کو شامل کر کے ایک فری ٹریڈ زون قائم کرنے کی کوشش میں بھی ہیں۔ فرانکو رشیئن آبزرویٹری نامی تھنک ٹینک کے ریسرچر ایگور ڈیلانو کا خیال ہے کہ امریکا کی جانب سے بتدریج بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد ایران مجبوراً روس اور چین کی جانب جھک رہا ہے۔