خام تیل کی قیمت چار سال بعد سب سے اونچی سطح پر

دنیا کے مختلف خطوں میں پائے جانے والے بحرانی حالات کے باعث خام تیل کی فی بیرل قیمت بڑھ کر اب اسّی ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ ملٹی نیشنل تیل کمپنی ٹوٹل کے سربراہ کے مطابق اس قیمت کا سو ڈالر ہو جانا حیران کن نہیں ہو گا۔

برطانوی دارالحکومت لندن بھی امریکی شہر نیو یارک کی طرح خام تیل اور تیل کی مصنوعات کی بین الاقوامی تجارت کی ایک بہت بڑی منڈی ہے۔ لندن سے جمعرات سترہ مئی کی شام موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق آج عالمی وقت کے مطابق قبل از دوپہر انٹرنیشنل مارکیٹ میں خام تیل کے برینٹ آئل قسم کے ایک بیرل کی قیمت مزید بڑھ کر 80 امریکی ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی۔

پچھلے چند برسوں سے تیل برآمد کرنے والے ممالک، جن میں اکثریت عرب ریاستوں کی ہے، اس بات پر مسلسل پریشان تھے کہ عالمی منڈیوں میں خام تیل کی فی بیرل قیمت مسلسل 50 ڈالر کے قریب ہی رہتی تھی۔ لیکن اب کئی بڑی وجوہات کے باعث اس قیمت میں پھر اتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ جمعرات 17 مئی کو لندن میں برینٹ آئل کے ایک بیرل کی قیمت 80.18 ڈالر تک پہنچ گئی۔

یہ عالمی منڈیوں میں گزشتہ ساڑھے تین سال سے بھی زائد عرصے کے دوران ریکارڈ کی گئی خام تیل کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔ آخری مرتبہ بین الاقوامی تجارت میں خام تیل کی اتنی زیادہ قیمت نومبر 2014ء میں دیکھی گئی تھی۔

سترہ مئی کو جب ایک بیرل تیل 80.18 امریکی ڈالر میں فروخت ہو رہا تھا تو کچھ دیر کے لیے اس قیمت میں تھوڑی کمی بھی ہوئی لیکن پھر دوبارہ اضافے کے بعد یہ قیمت 79.79 ڈالر ہو گئی، جو خام تیل کی کل بدھ سولہ مئی کو ریکارڈ کی گئی فی بیرل قیمت سے پھر بھی تقریباﹰ نصف ڈالر زیادہ تھی۔

عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اس بہت زیادہ حالیہ اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں امریکی صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جوہری ڈیل سے واشنگٹن کے اخراج کا فیصلہ بھی شامل ہے، مشرق وسطیٰ کی عمومی صورت حال بھی، سعودی عرب کی قیادت میں خلیج کے علاقے میں پایا جانے والا قطر کا تنازعہ بھی اور جنوبی امریکا میں وینزویلا جیسے بڑے برآمد کنندہ ملک میں تیل کی پیداوار میں بہت زیادہ کمی بھی۔

اس بارے میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے کل بدھ کے روز ہی خبردار کر دیا تھا کہ مجموعی بے یقینی کے ساتھ ساتھ ان تنازعات اور بحرانوں کے باعث آئندہ دنوں میں عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ خام تیل کی قیمتوں میں اس اضافے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک کے تنظیمی دائرہ کار سے باہر کی تیل برآمد کرنے والی ریاستوں نے مل کر حال ہی میں یہ فیصلہ بھی کیا تھا کہ وہ اپنے ہاں تیل کی پیداوار کم کر دیں گی